علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسند على بن ابي طالب رضي الله عنه
حدیث نمبر: 570
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، قَالَ: قَالَ عَلِي : كانت لي سَاعَةٌ مِنَ السَّحَرِ أَدْخُلُ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ كَانَ" قَائِمًا يُصَلِّي، سَبَّحَ بِي، فَكَانَ ذَاكَ إِذْنُهُ لِي، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي، أَذِنَ لِي".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سحری کے وقت ایک مخصوص گھڑی ہوتی تھی جس میں، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے یہ اس بات کی علامت ہوتی کہ مجھے اندر آنے کی اجازت ہے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے (اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 570]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعلل
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 570 in Urdu
عبد الله بن نجي الحضرمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي