مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 6134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ، وَكَانَتْ فِي لِسَانِهِ لُوثَةٌ، فَشَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْقَى مِنَ الْغَبْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ، فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ"، قَالَ: يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ: فَوَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَسْمَعُهُ يُبَايِعُ، وَيَقُولُ: لَا خِلَابَةَ، يُلَجْلِجُ بِلِسَانِهِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انصار کا ایک آدمی تھا جسے بیع میں لوگ دھوکہ دیتے تھے اس کی زبان میں لکنت بھی تھی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کی شکایت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بیع کیا کرو تو تم یوں کہہ لیا کرو کہ اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ واللہ یوں محسوس ہوتا ہے جسے اب بھی میں اسے بیع کرتے ہوئے " لا خلابہ " کہتے ہوئے سن رہا ہوں اور اس کی زبان اڑ رہی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6134]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي