علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه
حدیث نمبر: 98
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: حَذَفَ رَجُلٌ ابْنًا لَهُ بِسَيْفٍ، فَقَتَلَهُ، فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يُقَادُ الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهِ"، لَقَتَلْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَبْرَحَ.
مجاہد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے تلوار کے وار کر کے اپنے بیٹے کو مار ڈالا، اسے پکڑ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ والد سے اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا تو میں تجھے بھی قتل کر دیتا اور تو یہاں سے اٹھنے بھی نہ پاتا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 98]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا الإسناد فيه انقطاع، مجاهد لم يدرك عمر بن الخطاب
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 98 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي