یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(وضو میں داڑھی کا خلال کرنے کی روایت)
حدیث نمبر: 146
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلالٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: رُئِيَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ مُتَوضِّئًا يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: أَتُخَلِّلُ لِحْيَتَكَ؟ فَقَالَ:" وَمَا يَمْنَعُنِي، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ؟" .
حسان بن بلال مزنی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ایک شخص دکھایا گیا جو وضو کرتے ہوئے داڑھی کا خلال کر رہا تھا، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: کیا آپ بھی اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں ایسا کیوں نہ کروں، جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، فيه عبدالكريم بن أبى المخارق أبو امية، ولكن المتن صحيح، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:1604، والطيالسي فى ”مسنده“، برقم: 680، وابن أبى شيبة فى ”مصنفه“برقم: 98، 37612»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمار بن ياسر العنسي، أبو اليقظان | صحابي | |
👤←👥حسان بن بلال المزني حسان بن بلال المزني ← عمار بن ياسر العنسي | ثقة | |
👤←👥عبد الكريم بن أبي المخارق، أبو أمية عبد الكريم بن أبي المخارق ← حسان بن بلال المزني | متروك الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الكريم بن أبي المخارق | ثقة حافظ حجة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 146 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:146
فائدہ:
داڑھی کا خلال کرنا فرض ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داڑھی کا خلال کیا، پھر فر مایا: «هـكـذا أمـرنـي ربي» اسی طرح میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے۔ (سنن أبي داود: 451، حسـن ـ وانظر: الارواء: 135/1) امر وجوب کے لیے آتا ہے۔ اس حدیث سے داڑھی رکھنے کی فرضیت بھی ثابت ہوتی ہے۔ افسوس کہ امت سلمہ اس عظیم فرض کی یہود و نصاریٰ کے پیچھے چل کر مخالفت کر رہی ہے۔
داڑھی کا خلال کرنا فرض ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داڑھی کا خلال کیا، پھر فر مایا: «هـكـذا أمـرنـي ربي» اسی طرح میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے۔ (سنن أبي داود: 451، حسـن ـ وانظر: الارواء: 135/1) امر وجوب کے لیے آتا ہے۔ اس حدیث سے داڑھی رکھنے کی فرضیت بھی ثابت ہوتی ہے۔ افسوس کہ امت سلمہ اس عظیم فرض کی یہود و نصاریٰ کے پیچھے چل کر مخالفت کر رہی ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 146]
Musnad al-Humaydi Hadith 146 in Urdu
حسان بن بلال المزني ← عمار بن ياسر العنسي