مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 301
حدیث نمبر: 301
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ مَوْلَى لأُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ الصُّبْحِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلا مَقْبُوَلا" .
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ ”اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والے علم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 301]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه جهالة. ولكن الحديث صحيح، وقد استوفينا الحديث عنه فى «مسندالموصلي» برقم 6930، و 6950، 6997 اخرجه ابن ماجه فى سننه 928، وأحمد فى المسند 25956 , 26035 , 26124 , 26155، والنسائي فى الكبرى 8668، والطيالسي فى مسنده 1699، وعبدالرزاق فى مصنفه 3090، وابن أبى شيبة فى مصنفه 28689، وعبد بن حميد فى مسنده 1540»
الرواة الحديث:
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 301 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:301
فائدہ:
اس حدیث میں صبح کے اذکار میں سے ایک ذکر کا بیان ہے صبح و شام کے اذکار ہوں یا دیگر مواقع کے اذکار ہوں، ان کو پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ نیز اس ذکر سے نافع علم، پاکیزہ رزق اور ایسا عمل جو مقبول ہو، کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ نفع والے علم سے مراد، قرآن و حدیث والا علم ہے، جو انسان کو خالق و مالک کے قریب کرتا ہے، اور اس پر عمل بھی کیا جائے۔
اس حدیث میں صبح کے اذکار میں سے ایک ذکر کا بیان ہے صبح و شام کے اذکار ہوں یا دیگر مواقع کے اذکار ہوں، ان کو پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ نیز اس ذکر سے نافع علم، پاکیزہ رزق اور ایسا عمل جو مقبول ہو، کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ نفع والے علم سے مراد، قرآن و حدیث والا علم ہے، جو انسان کو خالق و مالک کے قریب کرتا ہے، اور اس پر عمل بھی کیا جائے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 301]
اسم مبهم ← أم سلمة زوج النبي