🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 304
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 304
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ تُسْتَحَاضُ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنَّهُ عِرْقٌ" , وَأَمَرَهَا أَنْ تَدَعَ الصَّلاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا , أَوْ قَدْرَ حَيْضَتِهَا , ثُمَّ تَغْتَسِلُ، فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَدْفَرَتْ بِثَوْبٍ وَصَلَّتْ .
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، فاطمہ بن ابوحبیش کو استحاضہ کی شکایت ہو گئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ کسی دوسری رگ کا مواد ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ ہدایت کی کہ اپنے حیض کے مخصوص دنوں میں وہ نماز ترک کر دے پھر وہ غسل کرے، پھر اگر خون غالب آ جائے تو وہ کپڑے کو مضبوطی سے باندھ کر نماز ادا کرے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 304]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وقد استوفينا تخريجه فى «مسند الموصلي» برقم 6894 وأحمد فى المسند 25946 , 26026 , 26140 , 26164، ومالك فى الموطأ 135، والحاكم فى المستدرك 6985، والدارمي فى سننه 816، والنسائي فى الكبرى 210» ‏‏‏‏

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥سليمان بن يسار الهلالي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو أيوب
Newسليمان بن يسار الهلالي ← أم سلمة زوج النبي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← سليمان بن يسار الهلالي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← أيوب السختياني
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 304 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:304
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حالت حیض میں عورت پر نماز فرض نہیں ہے، لیکن حالت استحاضہ میں وہ نماز ادا کرے گی۔ اسی طرح حالت حیض میں عورت روزے نہیں رکھے گی لیکن بعد میں ان کی قضائی دے گی۔ یاد رہے کہ استحاضہ والی عورت کی تین حالتیں ہیں:
① استحاضہ کا خون آنے سے پہلے اسے ماہواری آتی ہو اور اس کا معلوم ہو، ایسی عورت اپنے حیض کی مدت معلومہ میں نماز و روزہ کی ادائیگی نہیں کرے گی، اور ان ایام میں حیض کے احکام لاگو ہوں گے۔ اور ان ایام کے علاوہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا، اور اس پر استحاضہ کے احکام لاگو ہوں گے۔ اس حدیث میں اس صورت کا ذکر ہے۔
② استحاضہ آنے سے پہلے اسے ماہواری نہیں آتی تھی، وہ اس طرح کہ ابتدٱ ہی سے اسے استحاضہ کا خون آ رہا ہو، جب سے خون آنا شروع ہوا، اسی وقت استحاضہ بھی شروع ہو گیا تو ایسی صورت میں خون کی رنگت، کیفیت اور بو کے ساتھ حیض اور استحاضہ میں فرق کرے گی کہ اگر خون سیاہ ہو یا گاڑھا ہو، یا پھر اس کی بدبو ہو تو یہ حیض کا خون ہے، اس وقت اس پر حیض کے احکام لاگو ہوں گے، اور اس کے علاوہ صفات والے خون کے آنے پر استحاضہ کے احکام لاگو ہوں گے۔
③ تیسری صورت یہ ہے کہ نہ تو اس کی ماہواری کے ایام معلوم ہوں اور نہ ہی خون کی کوئی امتیازی علامت ہو، جس سے استحاضہ کی پہچان ہو سکے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ اسے بلوغت کے ساتھ ہی استحاضہ آنا شروع ہو گیا، پھر خون بھی ایک طرح کا ہے یا کئی صفات کا ہے۔ لیکن اس کا حیض ہونا ممکن نہ ہوتو یہ عورت عام عورتوں کی طرح عمل کرے گی، یعنی عام عورتوں کو جتنے دن ماہواری آتی ہے، وہ اس کی ماہواری شمار ہوگی۔ (الشیخ محمد صالح المنجد)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 304]