مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 347
حدیث نمبر: 347
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتِ مُحْصَنٍ ، تَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَام تَدْغَرْنَ أَوْلادَكُنَّ بِهَذَا الْعَلاقِ؟ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ يُسَعَّطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيَلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ" . قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَسَّرَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ اثْنَيْنِ، وَلَمْ يُفَسِّرْ لَنَا خَمْسَةً، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: الْعُودُ الْهِنْدِيُّ هُوَ الْقُسْطُ.
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اپنے بیٹے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے اس کے حلق کے ورم کی وجہ سے اس کا گلا ملا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس طرح گلا مل کر اپنے بچوں کو کیوں تکلیف پہنچاتی ہو؟ تم پر لازم ہے کہ تم عود ہندی استعمال کرو، کیونکہ اس میں سات قسم کی شفائیں ہیں۔ حلق میں ورم کی صورت میں اسے ناک میں ڈالا جائے گا اور ذات الجنب کی صورت میں اسے زبان کے نیچے ٹپکایا جائے گا۔“ زہری کہتے ہیں: عبیداللہ نامی راوی نے دو چیزوں کا ذکر کر دیا باقی پانچ کا تذکرہ نہیں کیا (یعنی باقی کون سی پانچ بیماریوں کے لیے شفا ہے؟)
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عود ہندی سے مراد ”قسط“ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 347]
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عود ہندی سے مراد ”قسط“ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 347]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح أخرجه البخاري فى "الطب" 223،5692،5693، 5713، 5715، 5718، ومسلم فى «السلام» 287،2214، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 207،وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27638، وابن حبان في «صحيحه» برقم: 1373،1374، 6070»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥آمنة بنت محصن الأسدية، أم قيس | صحابي | |
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← آمنة بنت محصن الأسدية | ثقة فقيه ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 347 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:347
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچے کے حلق کی تکلیف کا علاج مسنون طریقے سے کیا جائے، اور وہ یہ ہے کہ عود ہندی کو ناک میں ڈالا جائے، اس سے حلق کی بیماری دور ہو جاتی ہے، لیکن بعض لوگ بچے کے حلق کو انگلی سے دباتے ہیں، حالانکہ اس سے بچے کو تکلیف کا سامنا بھی کرنا پڑ تا ہے، اور انسان سنت کی مخالفت کا بھی مرتکب ہو جاتا ہے۔ عود ہندی کو پیس کر پانی یا تیل میں ملایا جائے اور اسے ناک میں ڈالا جائے۔ اس طرح دوا خود بخود حلق تک پہنچ جاتی ہے اور بچے کو سکون پہنچ جاتا ہے۔ نیز اس حدیث سے عود ہندی کی اہمیت و فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے کہ اس میں کئی ایک بیماریوں کی شفارکھی گئی ہے، عود ہندی ایک خوشبودار لکٹری ہے اس میں معمولی سا کھردرا پن ہوتا ہے اس کے چبانے سے دانتوں کی اصلاح ہو جاتی ہے نیز اس کے استعمال سے پیشاب اور حیض کھل کر آتا ہے۔ مسلمانوں کو طب میں قرآن و حدیث کی پابندی کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچے کے حلق کی تکلیف کا علاج مسنون طریقے سے کیا جائے، اور وہ یہ ہے کہ عود ہندی کو ناک میں ڈالا جائے، اس سے حلق کی بیماری دور ہو جاتی ہے، لیکن بعض لوگ بچے کے حلق کو انگلی سے دباتے ہیں، حالانکہ اس سے بچے کو تکلیف کا سامنا بھی کرنا پڑ تا ہے، اور انسان سنت کی مخالفت کا بھی مرتکب ہو جاتا ہے۔ عود ہندی کو پیس کر پانی یا تیل میں ملایا جائے اور اسے ناک میں ڈالا جائے۔ اس طرح دوا خود بخود حلق تک پہنچ جاتی ہے اور بچے کو سکون پہنچ جاتا ہے۔ نیز اس حدیث سے عود ہندی کی اہمیت و فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے کہ اس میں کئی ایک بیماریوں کی شفارکھی گئی ہے، عود ہندی ایک خوشبودار لکٹری ہے اس میں معمولی سا کھردرا پن ہوتا ہے اس کے چبانے سے دانتوں کی اصلاح ہو جاتی ہے نیز اس کے استعمال سے پیشاب اور حیض کھل کر آتا ہے۔ مسلمانوں کو طب میں قرآن و حدیث کی پابندی کا خیال رکھنا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 347]
Musnad al-Humaydi Hadith 347 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← آمنة بنت محصن الأسدية