🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(زرہ کے مہر سے شادی اور رخصتی پر دعا کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 38
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنَ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ أَنَّهُ لا شَيْءَ لِي، فَذَكَرْتُ عَائِدَتَهُ وَفَضْلَهُ , فَخَطَبْتُهَا، فَقَالَ لِي: " هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تُعْطِيهَا إِيَّاهُ؟" , قُلْتُ: لا، قَالَ:" فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَهَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا؟" , قُلْتُ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ:" فَأْتِ بِهَا"، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا , فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا , فَزَوَّجَنِيهَا، فَلَمَّا أَدْخَلَهَا عَلَيَّ، قَالَ:" لا تُحْدِثَا شَيْئًا حَتَّى آتِيكُمَا"، فَجَاءَنَا وَعَلَيْنَا كِسَاءٌ , أَوْ قَطِيفَةٌ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ تَخَشْخَشْنَا، فَقَالَ:" مَكَانَكُمَا"، فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَدَعَا فِيهِ ثُمَّ رَشَّهُ عَلَيْنَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهِيَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ أَنَا؟ قَالَ:" هِيَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْهَا" . قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الصَّوَّافُ: وحَدَّثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ . حَدَّثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
عبداللہ بن ابویجیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: مجھے ان صاحب نے بتایا جنہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے یہ سنا، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے یہ ارادہ کیا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے لیے نکاح کا پیغام بھجواؤں پھر مجھے یاد آیا، میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں۔ پھر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور فضیلت کا خیال آیا، تو میں نے (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے) نکاح کا پیغام دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے، جسے تم (مہر کے طور پر) اسے دو؟ میں نے عرض کی: جی نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری حطمیہ زرہ کہاں ہے؟ جو میں نے فلاں موقع پر تمہیں دی تھی؟ میں نے عرض کیا: وہ میرے پاس ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے ہی لے آؤ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہ لے کر آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ زرہ دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کر دی۔ جب ان کی رخصتی ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک میں تم دونوں کے پاس نہیں آتا اس وقت تک تم دونوں کوئی بات چیت نہ کرنا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے ایک چادر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک کمبل اوڑھا ہوا تھا۔ جب ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ہم اس میں داخل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں اپنی جگہ پر رہو! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دعا مانگی (یعنی اس پر کچھ پڑھ کر دم کیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہم پر چھڑک دیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ (یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں، یا میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہو۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں راوی نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 38]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أحمد 80/1، والبيهقي فى الصداق 234/7 وابوداود:2126»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← علي بن أبي طالب الهاشمي
0
👤←👥يسار المكي، أبو نجيح
Newيسار المكي ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي نجيح الثقفي، أبو يسار
Newعبد الله بن أبي نجيح الثقفي ← يسار المكي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن أبي نجيح الثقفي
ثقة حافظ حجة
👤←👥إبراهيم بن بشار الرمادي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن بشار الرمادي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن عبد الله الكجي، أبو مسلم
Newإبراهيم بن عبد الله الكجي ← إبراهيم بن بشار الرمادي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي بن أبي طالب الهاشمي ← إبراهيم بن عبد الله الكجي
صحابي
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← علي بن أبي طالب الهاشمي
0
👤←👥يسار المكي، أبو نجيح
Newيسار المكي ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي نجيح الثقفي، أبو يسار
Newعبد الله بن أبي نجيح الثقفي ← يسار المكي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن أبي نجيح الثقفي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 38 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:38
فائدہ:
اس حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شادی کا ذکر ہے کہ کس سادگی کے ساتھ ان کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی ہوئی، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ حق مہر جتنا میسر ہو وہی مقرر کرنا چاہیے۔موجودہ دور میں شادیاں کس طرح قرآن وسنت کی سنہری تعلیمات کے خلاف ہورہی ہیں، ہم کوئی بھی رسم و رواج چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔کاش مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں، اس میں امن ہی امن ہے۔ جب جنت کی سردار خاتون امام الانبیاء کی لخت جگر کی شادی اتنی سادگی سے ہوسکتی ہے تو ہماری بیٹیوں کی شادیاں اتنی شان وشوکت، فضول خرچی، ہندوانہ رسم ورواج کے ساتھ کیوں ہوں؟ افسوس کہ آج کے مسلمان نے شادیاں مہنگی اور زنا کو آسان کر دیا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 38]

Musnad al-Humaydi Hadith 38 in Urdu