پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 829
حدیث نمبر: 829
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، كَذَلِكَ كَانَ يَشُكُّ سُفْيَانُ فِيهِ، عَنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ: أَبْصَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْفَعْ إِزَارَكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْنَفُ يَصْطَكُّ رُكْبَتَاي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَكُلُّ خَلْقِ اللَّهِ حَسَنٌ" ، فَمَا رُئِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ بَعْدُ إِلا وَإِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ.
سیدنا شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ملاحظہ فرمایا، جس نے اپنے تہہ بند کو اپنے (ٹخنوں سے نیچے) لٹکایا ہوا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اپنے تہہ بند کو اوپر کرو۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں کچھ لنگڑا ہوں، جس کی وجہ سے میرے گھٹنے اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں، تو اپنے اس عیب پر پردہ رکھنے کے لیے میں اپنے تہہ بند کو لٹکا کر رکھتا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے تہہ بند کو اوپر رکھو اور اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق خوبصورت ہے۔“ (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد اس شخص کو ہمیشہ اس حالت میں دیکھا گیا کہ اس کا تہہ بند نصف پنڈلی تک ہوتا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 829]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه أحمد فى «مسنده» ، برقم: 19781 برقم: 19784، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 1708، والطبراني فى «الكبير» برقم: 7240، 7241»
الرواة الحديث:
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 829 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:829
فائدہ:
اس حدیث سے ظاہر ہے کہ اس صحابی کا چادر لٹکانا تکبر کی وجہ سے نہیں تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا کہ اس میں تکبر پائے جانے کا گمان ہوسکتا تھا۔ اگر کوئی شخص اپنی پنڈلیاں ٹیڑھی یا باریک ہونے کی وجہ سے چادر لٹکاۓ تو یہ بھی ناجائز ہے۔
اس حدیث سے ظاہر ہے کہ اس صحابی کا چادر لٹکانا تکبر کی وجہ سے نہیں تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا کہ اس میں تکبر پائے جانے کا گمان ہوسکتا تھا۔ اگر کوئی شخص اپنی پنڈلیاں ٹیڑھی یا باریک ہونے کی وجہ سے چادر لٹکاۓ تو یہ بھی ناجائز ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 829]
Musnad al-Humaydi Hadith 829 in Urdu
يعقوب بن عاصم الثقفي ← الشريد بن سويد الثقفي