الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب ما يجب فيه تطليقة واحدة من التمليك
جس تملیک سے ایک طلاق پڑتی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1144
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ مَلَّكَ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا، فَقَالَتْ: أَنْتَ الطَّلَاقُ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَتْ: أَنْتَ الطَّلَاقُ، فَقَالَ: بِفِيكِ الْحَجَرُ، ثُمّ قَالَتْ: أَنْتَ الطَّلَاقُ، فَقَالَ: بِفَيكِ الْحَجَرُ، فَاخْتَصَمَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، " فَاسْتَحْلَفَهُ مَا مَلَّكَهَا إِلَّا وَاحِدَةً، وَرَدَّهَا إِلَيْهِ" . قَالَ مَالِك: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَكَانَ الْقَاسِمُ يُعْجِبُهُ هَذَا الْقَضَاءُ، وَيَرَاهُ أَحْسَنَ مَا سَمِعَ فِي ذَلِكَ.
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص ثقفی نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا، اس نے اپنے تئیں ایک طلاق دی، یہ چپ ہو رہا، پھر اس نے دوسری طلاق دی، اس نے کہا: تیرے منہ میں پتھر، اس نے تیسری طلاق دی، اس نے کہا: تیرے منہ میں پتھر، پھر دونوں لڑتے ہوئے مروان کے پاس آئے، مروان نے اس بات کی قسم لی کہ میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا، اس کے بعد وہ عورت اس کے حوالہ کر دی۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: عبدالرحمٰن کہتے تھے کہ قاسم بن محمد اس فیصلہ کو پسند کرتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1144]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: عبدالرحمٰن کہتے تھے کہ قاسم بن محمد اس فیصلہ کو پسند کرتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1144]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15085، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4447، والشافعي فى «الاُم» برقم: 255/7، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 13»
حدیث نمبر: 1144B1
قَالَ مَالِك: وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ، وَأَحَبُّهُ إِلَيَّ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اور مجھے بھی بہت پسند ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1144B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 13»