الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب طلاق المختلعة
مختلعہ کی طلاق کا بیان
حدیث نمبر: 1168
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، وَابْنَ شِهَابٍ، كَانُوا يَقُولُونَ: " عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ مِثْلُ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ" .
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سعید بن مسیّب اور سلیمان بن یسار اور ابن شہاب کہتے تھے: جو عورت خلع کرے وہ تین طہر تک عدت کرے جیسے مطلقہ عدت کرتی ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1168]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1168]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15596، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11861، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18453، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 33ق»
حدیث نمبر: 1168B1
. قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُفْتَدِيَةِ: إِنَّهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا إِلَّا بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ، فَإِنْ هُوَ نَكَحَهَا، فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا عِدَّةٌ مِنَ الطَّلَاقِ الْآخَرِ، وَتَبْنِي عَلَى عِدَّتِهَا الْأُولَى. قَالَ مَالِكٌ: وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو پھر اپنے خاوند سے مل نہیں سکتی، مگر نیا نکاح کرے۔ پھر اگر اس نے نکاح کیا اسی خاوند سے اور اس نے چھوڑ دیا قبل جماع کے تو دوبارہ عدت نہ کرے، بلکہ پہلی عدت ہی پوری کر لے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ میں نے اچھا سنا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1168B1]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ میں نے اچھا سنا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1168B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 33ق»
حدیث نمبر: 1168B2
. قَالَ مَالِكٌ: إِذَا افْتَدَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ زَوْجِهَا بِشَيْءٍ، عَلَى أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَطَلَّقَهَا طَلَاقًا مُتَتَابِعًا نَسَقًا، فَذَلِكَ ثَابِتٌ عَلَيْهِ، فَإِنْ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ صُمَاتٌ، فَمَا أَتْبَعَهُ بَعْدَ الصُّمَاتِ، فَلَيْسَ بِشَيْءٍ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جب عورت کچھ مال دے اس شرط پر کہ خاوند اس کو طلاق دے دے، اور خاوند تین طلاق ایک ہی دفعہ اس کو دے دے تو تین طلاق پڑ جائے گی، اور جو ایک طلاق دے کر چپ ہو رہے، پھر دوسری یا تیسری طلاق دے تو چپ ہو جانے کے بعد جو طلاق دی لغو ہو جائے گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1168B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 33ق»