🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب ما جاء فى يمين الرجل بطلاق ما لم ينكح
عورت سے نکاح نہ کیا ہو اس کی طلاق پر قسم کھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1212
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ فِيمَنْ قَالَ: " كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ، إِنَّهُ إِذَا لَمْ يُسَمِّ قَبِيلَةً أَوِ امْرَأَةً بِعَيْنِهَا فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جو شخص کہے: میں جس عورت سے نکاح کروں اس عورت کو طلاق ہے، اور کسی قبیلہ خاص اور عورت معین کا ذکر نہیں کیا تو یہ کلام لغو ہو جائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1212]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11470، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 73ق»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1212B1
قَالَ مَالِكٌ: وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ. قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ الطَّلَاقُ، وَكُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ، وَمَالُهُ صَدَقَةٌ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ كَذَا وَكَذَا، فَحَنِثَ، قَالَ: أَمَّا نِسَاؤُهُ فَطَلَاقٌ، كَمَا قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهُ: كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ، فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُسَمِّ امْرَأَةً بِعَيْنِهَا، أَوْ قَبِيلَةً، أَوْ أَرْضًا، أَوْ نَحْوَ هَذَا، فَلَيْسَ يَلْزَمُهُ ذَلِكَ، وَلْيَتَزَوَّجْ مَا شَاءَ، وَأَمَّا مَالُهُ فَلْيَتَصَدَّقْ بِثُلُثِهِ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی عورت سے کہے: اگر میں فلاں کام نہ کروں تو تجھ پر طلاق ہے، اور جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے، اور اس کا مال اللہ کی راہ میں صدقہ ہے، پھر اس نے وہ کام نہ کیا تو اس کی عورت پر طلاق پڑ جائے گی، مگر یہ جو کہا کہ جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے، اگر کسی عورت معین یا قبیلہ معین کا نام نہ لیا تو لغو ہو جائے گی، اور مال میں سے تہائی صدقہ دینا ہوگا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1212B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 73ق»