🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب ما جاء فى الصرف
بیع صرف کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1340
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ ، أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ، قَالَ: فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَنِي خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ. وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ لَا تُفَارِقْهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ. ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ" .
حضرت مالک بن اوس نے کہا: مجھے حاجت ہوئی سو دینار کے درہم لینے کی تو مجھے بلایا طلحہ بن عبیداللہ نے۔ پھر ہم دونوں راضی ہوئے صرف کے اوپر اور انہوں نے دینار مجھ سے لے لئے اور ہاتھ سے الٹ پلٹ کرنے لگے، اور کہا: صبر کرو یہاں تک کہ میرا خزانچی غابہ سے آ جائے (غابہ ایک موضوع ہے قریب مدینہ کے)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: نہیں، قسم اللہ کی! مت چھوڑنا طلحہ کو بغیر روپے لئے، فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: سونے کا بیچنا چاندی کے بدلے میں ربا ہے مگر جب نقداً نقد ہو، اور گہیوں بدلے گیہوں کے بیچنا ربا ہے مگر نقداً نقد، اور کھجور بدلے کھجور کے بیچنا ربا ہے مگر نقداً نقد، اور جو بدلے جو کے بیچنا ربا ہے مگر نقداً نقد، اور نمک بدلے نمک کے بیچنا ربا ہے مگر نقداً نقد۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1340]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2134، 2170، 2174، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1586، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5013، 5019، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4562، 4576، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6105، 6120، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3348، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1243، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2620، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2253، 2259، 2260، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10585، وأحمد فى «مسنده» برقم: 164، 244، 320، 28178، والحميدي فى «مسنده» برقم: 12، 762، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 38»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥مالك بن أوس النصري، أبو سعيد
Newمالك بن أوس النصري ← عمر بن الخطاب العدوي
له رؤية
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← مالك بن أوس النصري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1340B1
قَالَ مَالِك: إِذَا اصْطَرَفَ الرَّجُلُ دَرَاهِمَ بِدَنَانِيرَ ثُمَّ وَجَدَ فِيهَا دِرْهَمًا زَائِفًا فَأَرَادَ رَدَّهُ، انْتَقَضَ صَرْفُ الدِّينَارِ وَرَدَّ إِلَيْهِ وَرِقَهُ وَأَخَذَ إِلَيْهِ دِينَارَهُ. وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ". وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَإِنِ اسْتَنْظَرَكَ إِلَى أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ، وَهُوَ إِذَا رَدَّ عَلَيْهِ دِرْهَمًا مِنْ صَرْفٍ بَعْدَ أَنْ يُفَارِقَهُ كَانَ بِمَنْزِلَةِ الدَّيْنِ أَوِ الشَّيْءِ الْمُتَأَخِّرِ. فَلِذَلِكَ كُرِهَ ذَلِكَ، وَانْتَقَضَ الصَّرْفُ، وَإِنَّمَا أَرَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ لَا يُبَاعَ الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ وَالطَّعَامُ كُلُّهُ عَاجِلًا بِآجِلٍ، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ تَأْخِيرٌ وَلَا نَظِرَةٌ، وَإِنْ كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ أَوْ كَانَ مُخْتَلِفَةً أَصْنَافُهُ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے روپے اشرفیوں کے بدلے میں لیے، پھر اس میں ایک روپیہ کھوٹا نکلا، اب اس کو پھیرنا چاہے تو سب اشرفیاں اپنی پھیر لے، اور سب روپے اس کے واپس دے دے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا بدلے میں چاندی کے ربا ہے مگر جب نقداً نقد ہو۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تجھ سے اپنے گھر جانے کی مہلت مانگے تو مہلت نہ دے، اگر ایک روپیہ اس کو پھیر دے گا اور اس سے جدا ہو جائے گا تو مثل دین کے یا میعاد کے ہو جائے گا، اسی واسطے یہ مکروہ ہے، خود اس بیع کو توڑ ڈالنا چاہیے کہ ایک طرف نقد ہو دوسری طرف وعدہ، خواہ ایک جنس یا کئی جنس ہوں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1340B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 38»

Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 1340 in Urdu