موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب القضاء فى الهبة
ہبہ کا حکم
حدیث نمبر: 1455
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ الْمُرِّيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ: " مَنْ وَهَبَ هِبَةً لِصِلَةِ رَحِمٍ، أَوْ عَلَى وَجْهِ صَدَقَةٍ، فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعُ فِيهَا، وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً يَرَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِهَا الثَّوَابَ، فَهُوَ عَلَى هِبَتِهِ يَرْجِعُ فِيهَا إِذَا لَمْ يُرْضَ مِنْهَا" .
حضرت ابو غطفان بن طریف سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص ہبہ کرے کسی ناتے والے کو صلہ رحمی کے واسطے، یا صدقہ کے طور پر ثواب کے واسطے، تو اس میں رجوع نہیں کر سکتا، اور جو ہبہ کرے عوض لینے کے واسطے تو وہ رجوع کر سکتا ہے، جب کہ ناراض ہو۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1455]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1455]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12023، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3807، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16519، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5820، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 42»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥سعد بن طريف المري، أبو غطفان سعد بن طريف المري ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة | |
👤←👥داود بن الحصين القرشي، أبو سليمان داود بن الحصين القرشي ← سعد بن طريف المري | صدوق حسن الحديث |
حدیث نمبر: 1455B1
قَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْهِبَةَ إِذَا تَغَيَّرَتْ عِنْدَ الْمَوْهُوبِ لَهُ لِلثَّوَابِ بِزِيَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ، فَإِنَّ عَلَى الْمَوْهُوبِ لَهُ أَنْ يُعْطِيَ صَاحِبَهَا قِيمَتَهَا يَوْمَ قَبَضَهَا
امام مالک رحمہ اللہ نےفرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جب موہوب میں کچھ تفاوت ہو جائے کمی بیشی سے، اور وہ ہبہ ایسا ہو جو عوض کے واسطے دیا گیا ہو، تو موہوب لہُ کو اس کی قیمت قبضے کے دن کی دینی پڑے گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1455B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 42»
حدیث نمبر: 1456Q1
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ، أَنَّ كُلَّ مَنْ تَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهِ بِصَدَقَةٍ قَبَضَهَا الِابْنُ. أَوْ كَانَ فِي حَجْرِ أَبِيهِ فَأَشْهَدَ لَهُ عَلَى صَدَقَتِهِ. فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَعْتَصِرَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ. لِأَنَّهُ لَا يَرْجِعُ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے، باپ اگر اپنے بیٹے کو کچھ صدقہ کے طور پر دے تو بیٹا اس کو اپنے قبضے میں کر لے۔ یا بیٹا صغیر سن ہو، خود باپ کی گود میں ہو، اور وہ صدقہ پر گواہ کر دے، تو اب باپ کو اس میں رجوع کرنا درست نہیں، کیونکہ کسی صدقہ میں رجوع درست نہیں۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1456Q1]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1456Q1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح:42ق»
حدیث نمبر: 1456Q2
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ نَحَلَ وَلَدَهُ نُحْلًا، أَوْ أَعْطَاهُ عَطَاءً لَيْسَ بِصَدَقَةٍ. إِنَّ لَهُ أَنْ يَعْتَصِرَ ذَلِكَ. مَا لَمْ يَسْتَحْدِثِ الْوَلَدُ دَيْنًا يُدَايِنُهُ النَّاسُ بِهِ. وَيَأْمَنُونَهُ عَلَيْهِ. مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْعَطَاءِ الَّذِي أَعْطَاهُ أَبُوهُ. فَلَيْسَ لِأَبِيهِ أَنْ يَعْتَصِرَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، بَعْدَ أَنْ تَكُونَ عَلَيْهِ الدُّيُونُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو کوئی چیز محبت کی وجہ سے دے، نہ کہ صدقہ کے طور پر، تو وہ اس میں رجوع کرسکتا ہے، جب تک کہ بیٹا اس جائداد کے اعتماد پر معاملہ نہ کرنے لگے، اور لوگ اس کو اس جائداد کے بھروسے پر قرض نہ دیں، لیکن جب ایسا ہو جائے تو پھر رجوع نہیں کرسکتا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1456Q2]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1456Q2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح:42ق»
حدیث نمبر: 1456Q3
قَالَ مَالِكٌ: أَوْ يُعْطِي الرَّجُلُ ابْنَهُ أَوِ ابْنَتَهُ. فَتَنْكِحُ الْمَرْأَةُ الرَّجُلَ. وَإِنَّمَا تَنْكِحُهُ لِغِنَاهُ. وَلِلْمَالِ الَّذِي أَعْطَاهُ أَبُوهُ. فَيُرِيدُ أَنْ يَعْتَصِرَ ذَلِكَ الْأَبُ. أَوْ يَتَزَوَّجُ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ قَدْ نَحَلَهَا أَبُوهَا النُّحْلَ. إِنَّمَا يَتَزَوَّجُهَا وَيَرْفَعُ فِي صِدَاقِهَا لِغِنَاهَا وَمَالِهَا. وَمَا أَعْطَاهَا أَبُوهَا. ثُمَّ يَقُولُ الْأَبُ: أَنَا أَعْتَصِرُ ذَلِكَ. فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَعْتَصِرَ مِنِ ابْنِهِ وَلَا مِنِ ابْنَتِهِ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ. إِذَا كَانَ عَلَى مَا وَصَفْتُ لَكَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو ہبہ کرے اور کوئی عورت اس بیٹے سے اس واسطے نکاح کرے کہ جائداد ہبہ میں پاکر غنی (مالدار) ہو گیا ہے، یا کوئی شخص اپنی بیٹی کو ہبہ کرے، پھر اس سے کوئی مرد نکاح کرے اس جائداد کے خیال سے، تو اب باپ رجوع نہیں کر سکتا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1456Q3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح:42ق»
Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 14563 in Urdu
سعد بن طريف المري ← عمر بن الخطاب العدوي