🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ما جاء فى قيام رمضان
قیام ر مضان کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 249
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ قَالَ:" أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً"، قَالَ: وَقَدْ كَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ حَتَّى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَى الْعِصِيِّ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ وَمَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّا فِي فُرُوعِ الْفَجْرِ
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا اُبی بن کعب اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا۔ سائب بن یزید نے کہا کہ امام سو سو آیتیں ایک رکعت میں پڑھتا تھا یہاں تک کہ ہم لکڑی کا سہارا لے کر کھڑے ہوتے تھے اور نہیں فارغ ہوتے تھے ہم مگر فجر کے قریب۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 249]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه النسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4670، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4690، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 1367، 1368، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7730، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 7753، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 1740، شركة الحروف نمبر: 236، فواد عبدالباقي نمبر: 6 - كِتَابُ الصَّلَاةِ فِي رَمَضَانَ-ح: 4»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥السائب بن يزيد الكندي، أبو يزيد
Newالسائب بن يزيد الكندي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي صغير
👤←👥محمد بن يوسف الأعرج، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الأعرج ← السائب بن يزيد الكندي
ثقة ثبت
موطا امام مالك رواية يحييٰ کی حدیث نمبر 249 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، موطا امام مالک 249
رکعاتِ تراویح اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا حکم:
➊ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یا کسی صحابی سے بھی بیس رکعات تراویح قولاً یا فعلاً ثابت نہیں ہے، بلکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دو صحابیوں سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعتیں پڑھائیں۔ [موطأ امام مالک (روایۃ یحییٰ بن یحییٰ): 1/ 114، ح: 249، وسندہ صحیح] [شرح معانی الآثار للطحاوی: 1/ 293]
➋ تقلید کے دعویدار محمد بن علی النیموی نے اس اثر کے بارے میں کہا:
«وإسنادہ صحیح»
اور اس کی سند صحیح ہے۔ [آثار السنن: ص: 250، ح: 776]
➌ ان دو صحابیوں میں سے ایک مردوں کو اور دوسرے عورتوں کو تراویح کی نماز پڑھاتے تھے۔ مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ دونوں صحابی گیارہ رکعات پڑھاتے تھے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ: ج: 2، ص: 392، ح: 7670]
➍ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
ہم (یعنی صحابہ) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور بحوالہ الحاوی للفتاوی: ج: 1، ص: 349]
❀ امام سیوطی رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں کہا:
«بسند في غایۃ الصحۃ»
بہت زیادہ صحیح سند کے ساتھ۔ [الحاوی للفتاوی: ج: 1، ص: 350]
➎ ان صحیح آثار کے مقابلے میں بعض تقلیدی حضرات السنن الکبریٰ للبیہقی اور معرفۃ السنن و الآثار کی جو روایتیں پیش کرتے ہیں، وہ سب شاذ (یعنی ضعیف) ہیں۔
اصل مضمون کے لیے دیکھئے:
[مقالات: جلد 3، صفحہ 602] [ماہنامہ الحدیث: شمارہ نمبر 64، صفحہ 23]
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 23]

Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 249 in Urdu