🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي حِجَامَةِ الصَّائِمِ
روزہ دار کو پچھنے لگانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 610
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ ،" أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ لَا يُفْطِرُ، قَالَ: وَمَا رَأَيْتُهُ احْتَجَمَ قَطُّ إِلَّا وَهُوَ صَائِمٌ"
حضرت عروہ بن زبیر پچھنے لگاتے تھے روزے میں، پھر افطار نہیں کرتے تھے۔ کہا ہشام نے: میں نے کبھی نہیں دیکھا حضرت عروہ کو پچھنے لگاتے ہوئے مگر وہ روزے سے ہوتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 610]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، أخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7546، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 9426، والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 97/2، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2546، شركة الحروف نمبر: 615، فواد عبدالباقي نمبر: 18 - كِتَابُ الصِّيَامِ-ح: 32»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد اللهثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 610B
قَالَ مَالِك: لَا تُكْرَهُ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ إِلَّا خَشْيَةً مِنْ أَنْ يَضْعُفَ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَمْ تُكْرَهْ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا احْتَجَمَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ سَلِمَ مِنْ أَنْ يُفْطِرَ لَمْ أَرَ عَلَيْهِ شَيْئًا، وَلَمْ آمُرْهُ بِالْقَضَاءِ لِذَلِكَ الْيَوْمِ الَّذِي احْتَجَمَ فِيهِ، لِأَنَّ الْحِجَامَةَ إِنَّمَا تُكْرَهُ لِلصَّائِمِ لِمَوْضِعِ التَّغْرِيرِ بِالصِّيَامِ، فَمَنِ احْتَجَمَ وَسَلِمَ مِنْ أَنْ يُفْطِرَ حَتَّى يُمْسِيَ فَلَا أَرَى عَلَيْهِ شَيْئًا وَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءُ ذَلِكَ الْيَوْمِ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: پچھنے لگانا روزہ دار کو مکروہ نہیں ہے مگر اس خوف سے کہ ضعیف ہو جائے، اور اگر ضعف کا خوف نہ ہو تو مکروہ نہیں ہے۔ پس اگر ایک شخص نے پچھنے لگائے رمضان میں، پھر روزہ توڑنے سے بچ گیا تو اس پر کچھ لازم نہیں ہے، نہ اس کو اس دن کی قضا کا حکم ہے، کیونکہ پچھنے لگانا مکروہ ہے جب روزہ ٹوٹ جانے کا خوف ہو۔ پس اگر پچھنے لگائے اور روزہ توڑنے سے بچا یہاں تک کہ شام ہو گئی تو اس پر کچھ لازم نہیں، نہ اس پر قضا ہے اس دن کی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 610B]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر:، فواد عبدالباقي نمبر: 18 - كِتَابُ الصِّيَامِ-ح: 32»


Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 610 in Urdu