موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب الصلاة بعد الصبح والعصر فى الطواف
دوگانہ طواف کا ادا کرنا بعد نماز صبح یا عصر کے
حدیث نمبر: 819
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّهُ قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ الْبَيْتَ يَخْلُو بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا يَطُوفُ بِهِ أَحَدٌ" . قَالَ مَالِك: وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ بَعْضَ أُسْبُوعِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ أَوْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَإِنَّهُ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ، ثُمَّ يَبْنِي عَلَى مَا طَافَ حَتَّى يُكْمِلَ سُبْعًا، ثُمَّ لَا يُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبَ، قَالَ: وَإِنْ أَخَّرَهُمَا حَتَّى يُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ، فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ
حضرت ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا خانۂ کعبہ کو خالی ہو جاتا طواف کرنے والوں سے، بعد نمازِ صبح اور بعد نمازِ عصر کے کوئی طواف نہ کرتا۔
امام ما لک نے فر مایا کہ جس نے طواف شروع کیا، پھر تکبیر ہوئی نمازِ صبح یا عصر کی تو وہ نماز پڑھے امام کے ساتھ، بعد نماز کے طواف پورا کرے، لیکن دوگانہ ادا نہ کرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آئے یا ڈوب جائے، اور اگر بعد نمازِ مغرب کے پڑھے تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 819]
امام ما لک نے فر مایا کہ جس نے طواف شروع کیا، پھر تکبیر ہوئی نمازِ صبح یا عصر کی تو وہ نماز پڑھے امام کے ساتھ، بعد نماز کے طواف پورا کرے، لیکن دوگانہ ادا نہ کرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آئے یا ڈوب جائے، اور اگر بعد نمازِ مغرب کے پڑھے تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 819]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 119»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير | صدوق إلا أنه يدلس |
حدیث نمبر: 819B1
قَالَ مَالِك: وَلَا بَأْسَ أَنْ يَطُوفَ الرَّجُلُ طَوَافًا وَاحِدًا بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ، لَا يَزِيدُ عَلَى سُبْعٍ وَاحِدٍ، وَيُؤَخِّرُ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ كَمَا صَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَيُؤَخِّرُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ صَلَّاهُمَا إِنْ شَاءَ. وَإِنْ شَاءَ أَخَّرَهُمَا، حَتَّى يُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر کوئی شخص ایک طواف کرے بعد نماز فجر یا عصر کے اور دوگانہ کی تاخیر کرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آئے، جیسا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کیا، یا آفتاب ڈوب جائے تو کچھ قباحت نہیں ہے، اب دوگانہ طواف آفتاب ڈوبتے ہی پڑھ لے یا بعد نمازِ مغرب کے پڑھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 819B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 119»
Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 819 in Urdu