🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
202. باب من قام من ثنتين ولم يتشهد
باب: دو رکعت پر بغیر تشہد پڑھے اٹھ جائے تو کیا سجدہ سہو کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1035
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَبَقِيَّةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ وَحَدِيثِهِ، زَادَ" وَكَانَ مِنَّا الْمُتَشَهِّدُ فِي قِيَامِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ سَجَدَهُمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ، قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، وَهُوَ قَوْلُ الزُّهْرِيِّ.
اس طریق سے بھی زہری سے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ہم میں سے بعض نے کھڑے کھڑے تشہد پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی جب وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے تھے، سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور یہی زہری کا بھی قول ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1035]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9154) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1224) صحيح مسلم (570)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكرالفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥عثمان بن كثير القرشي، أبو عمرو
Newعثمان بن كثير القرشي ← بقية بن الوليد الكلاعي
ثقة
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص
Newعمرو بن عثمان القرشي ← عثمان بن كثير القرشي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1035 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1035
1035۔ اردو حاشیہ:
درمیانی تشہد رہ جانے کی صورت میں اگر دوران نماز میں علم ہو جائے تو افضل یہی ہے کہ سہو کے دو سجدے سلام سے پہلے کیے جائیں ورنہ بعد از سلام کرنے ہوں گے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1035]