سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
219. باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد
باب: جمعہ اور عید ایک دن پڑے تو کیا کرنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 1071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ أَوَّلَ النَّهَارِ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْجُمُعَةِ" فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا فَصَلَّيْنَا وُحْدَانًا" وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ، فَلَمَّا قَدِمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَصَابَ السُّنَّةَ.
عطاء بن ابورباح کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں جمعہ کے دن صبح سویرے عید کی نماز پڑھائی، پھر جب ہم نماز جمعہ کے لیے چلے تو وہ ہماری طرف نکلے ہی نہیں، بالآخر ہم نے تنہا تنہا نماز پڑھی ۱؎ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس وقت طائف میں تھے، جب وہ آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا: انہوں (ابن زبیر رضی اللہ عنہ) نے سنت پر عمل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1071]
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ کے روز عید کے دن، دن کے پہلے حصے میں نماز پڑھائی، پھر ہم جمعہ کے لیے گئے مگر وہ نہ آئے اور ہم نے اکیلے ہی نماز پڑھی۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما طائف میں تھے، وہ جب آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ”انہوں نے سنت پر عمل کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1071]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/صلاة العیدین (886)، (تحفة الأشراف: 5896) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ظہر پڑھی کیونکہ جمعہ کے لئے جماعت ضروری ہے اس کے بغیر جمعہ صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1070)
انظر الحديث السابق (1070)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 1071 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي