علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب نسخ قيام الليل والتيسير فيه
باب: تہجد کی فرضیت کی منسوخی اور اس میں آسانی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1305
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْمَرْوَزِيَّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا، وَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا سَنَةٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب سورۃ مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو (نماز میں) کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سورۃ کا آخری حصہ نازل ہوا، ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1305]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ”جب سورۃ المزمل کا ابتدائی حصہ ﴿قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [سورة المزمل: 2] نازل ہوا تو صحابہ کرام ایسے قیام کرتے تھے جیسے کہ رمضان میں قیام کرتے ہیں حتیٰ کہ اس سورت کا آخری حصہ نازل ہوا اور ان دونوں حصوں کے نزول میں ایک سال کا فرق تھا۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5678) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 1305 in Urdu
سماك بن الوليد الحنفي ← عبد الله بن العباس القرشي