سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ
باب: نماز وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1429
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَلَا يَقْنُتُ بِهِمْ إِلَّا فِي النِّصْفِ الْبَاقِي، فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّى فِي بَيْتِهِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ: أَبَقَ أُبَيٌّ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الَّذِي ذُكِرَ فِي الْقُنُوتِ لَيْسَ بِشَيْءٍ، وَهَذَانِ الْحَدِيثَانِ يَدُلَّانِ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ أُبَيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ فِي الْوِتْرِ".
حسن بصری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کر دیا، وہ لوگوں کو بیس راتوں تک نماز (تراویح) پڑھایا کرتے تھے اور انہیں قنوت نصف اخیر ہی میں پڑھاتے تھے اور جب آخری عشرہ ہوتا تو مسجد نہیں آتے اپنے گھر ہی میں نماز پڑھا کرتے، لوگ کہتے کہ ابی بھاگ گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ دلیل ہے اس بات کی کہ قنوت کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ غیر معتبر ہے اور یہ دونوں حدیثیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے ضعف پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں قنوت پڑھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1429]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پر جمع فرما دیا، وہ انہیں بیس رات نماز پڑھاتے تھے اور قنوت نہ کرتے تھے، مگر نصف اخیر میں قنوت کرتے تھے، اور جب آخری عشرہ آ جاتا تو جماعت کرانا چھوڑ دیتے اور اپنے گھر میں پڑھتے تھے تو لوگ کہتے کہ ”ابی بھاگ گئے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یہ دلیل ہے کہ قنوت کے بارے میں جو ذکر ہوا وہ صحیح نہیں ہے، اور یہ دونوں حدیثیں سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کے ضعیف ہونے کی دلیل ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:10) (ضعیف)» (حسن بصری اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے)
وضاحت: ۱؎: جب یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں تو ان سے استدلال درست نہیں ہے، جب کہ وتر میں قنوت والی حدیث سندا صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحسن البصري لم يسمع من أبي بن كعب رضي اللّٰه عنه والحديث ضعفه الحافظ في الدراية (194/1ح245) والنووي في الخلاصة (565/1 ح 1915) وقال العيني: ’’ أن فيه انقطاعًا فإن الحسن لم يدرك عمر بن الخطاب ‘‘ (شرح سنن أبي داود 343/5 ح 1399)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57
إسناده ضعيف
الحسن البصري لم يسمع من أبي بن كعب رضي اللّٰه عنه والحديث ضعفه الحافظ في الدراية (194/1ح245) والنووي في الخلاصة (565/1 ح 1915) وقال العيني: ’’ أن فيه انقطاعًا فإن الحسن لم يدرك عمر بن الخطاب ‘‘ (شرح سنن أبي داود 343/5 ح 1399)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد يونس بن عبيد العبدي ← الحسن البصري | ثقة ثبت فاضل ورع | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← يونس بن عبيد العبدي | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥شجاع بن مخلد الفلاس، أبو الفضل شجاع بن مخلد الفلاس ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1429 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 1429
بیس راتوں تک نماز
”. . . حسن بصری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کر دیا، وہ لوگوں کو بیس راتوں تک نماز (تراویح) پڑھایا کرتے تھے. . .“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر / باب الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ/ ح: 1429]
فوائد و مسائل
قاضی ابوبکر بن العربی المالکی (متوفی ۵۴۳ھ) فرماتے ہیں:
”اور صحیح یہ ہے کہ گیارہ رکعات پڑھنی چاہئیں۔“
[عارضة الاحوذي ۴/۱۹ ح ۸۰۶، تعداد ركعاتِ قيام ر مضان كا تحقيقي جائزه ص ۸۶]
کیا قاضی صاحب اہل سنت سے خارج تھے؟
علامہ قرطبی (متوفی ۶۵۶ھ) لکھتے ہیں:
”اور کثیر علماء یہ کہتے ہیں کہ گیارہ رکعتیں ہیں۔“
[المفهم من تلخيص كتاب مسلم ۲/۳۹۰، تعدادِ ركعاتِ قيام ر مضان ص ۸۶]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
”اگر رکعتیں کم اور قیام لمبا ہو تو بہتر ہے اور مجھے زیادہ پسند ہے …“
[مختصر قيام الليل للمروزي ص ۲۰۲، ۲۰۳، تعدادِ ركعاتِ قيام ر مضان ص ۸۵]
کیا یہ سب اہل سنت سے خارج تھے؟
”. . . حسن بصری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کر دیا، وہ لوگوں کو بیس راتوں تک نماز (تراویح) پڑھایا کرتے تھے. . .“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر / باب الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ/ ح: 1429]
فوائد و مسائل
اسماعیل جھنگوی لکھتے ہیں:
”اہل سنت بیس تراویح سے کم کے قائل نہیں۔“
[تحفهٔ اهل حديث ص ۵۴]
7 تبصرہ: 7 ”اہل سنت بیس تراویح سے کم کے قائل نہیں۔“
[تحفهٔ اهل حديث ص ۵۴]
قاضی ابوبکر بن العربی المالکی (متوفی ۵۴۳ھ) فرماتے ہیں:
”اور صحیح یہ ہے کہ گیارہ رکعات پڑھنی چاہئیں۔“
[عارضة الاحوذي ۴/۱۹ ح ۸۰۶، تعداد ركعاتِ قيام ر مضان كا تحقيقي جائزه ص ۸۶]
کیا قاضی صاحب اہل سنت سے خارج تھے؟
علامہ قرطبی (متوفی ۶۵۶ھ) لکھتے ہیں:
”اور کثیر علماء یہ کہتے ہیں کہ گیارہ رکعتیں ہیں۔“
[المفهم من تلخيص كتاب مسلم ۲/۳۹۰، تعدادِ ركعاتِ قيام ر مضان ص ۸۶]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
”اگر رکعتیں کم اور قیام لمبا ہو تو بہتر ہے اور مجھے زیادہ پسند ہے …“
[مختصر قيام الليل للمروزي ص ۲۰۲، ۲۰۳، تعدادِ ركعاتِ قيام ر مضان ص ۸۵]
کیا یہ سب اہل سنت سے خارج تھے؟
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 0]
Sunan Abi Dawud Hadith 1429 in Urdu
الحسن البصري ← عمر بن الخطاب العدوي