سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب في الاستعاذة
باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1541
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَعِيدٌ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَضَلْعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ" وَذَكَرَ بَعْضَ مَا ذَكَرَهُ التَّيْمِيُّ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے“ اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ۱؎ نے ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1541]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکثرت سنتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اَللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَضَلْعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں پریشانی اور غم سے، قرضے کے بوجھ سے اور لوگوں (ظالموں) کے غلبے اور زور آوری سے۔“ نیز کچھ وہ بھی ذکر کیا جسے تیمی (معتمر بن سلیمان) نے (اوپر والی حدیث میں) بیان کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 40 (6369)، سنن الترمذی/الدعوات 71 (3484)، سنن النسائی/الاستعاذة 7 (5455) (تحفة الأشراف: 1115)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/122، 220، 226، 240) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تیمی سے مراد اس سے پہلے والی حدیث کی سند کے راوی معتمر بن سلیمان تیمی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6369)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1541 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1541
1541. اردو حاشیہ: «الحزن» یہ لفظ ’حا“ کے ضمہ اور ”زا“ کے سکون سے پڑھا جاتا ہے اور دونوں کی فتحہ سے بھی۔ «ھم» اور «حزن» میں فرق یہ ہے کہ «ھم» مستقبل کے اندیشوں کو کہا جاتا ہے اور «حزن» ان پر پریشانیوں کو جوماضی کے کسی واقعہ کی وجہ سے ہوں۔ «ظلع» اور «ضلع» تقریباً ہم معنی ہیں‘ صحیح بخاری میں «ضلع» ضاد کے ساتھ آیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1541]
Sunan Abi Dawud Hadith 1541 in Urdu
عمرو بن أبي عمرو القرشي ← أنس بن مالك الأنصاري