سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب صدقة الزرع
باب: کھیتوں میں پیدا ہونے والی چیزوں کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1598
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، وَحُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْعَجَلِيُّ، قَالَا: قَالَ وَكِيعٌ: الْبَعْلُ الْكَبُوسُ الَّذِي يَنْبُتُ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ، قَالَ ابْنُ الْأَسْوَدِ: وَقَالَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ آدَمَ: سَأَلْتُ أَبَا إِيَاسٍ الْأَسَدِيّ، عَنِ الْبَعْلِ، فَقَالَ: الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ، وقَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: الْبَعْلُ مَاءُ الْمَطَرِ.
وکیع کہتے ہیں «بعل» سے مراد وہ کھیتی ہے جو آسمان کے پانی سے (بارش) اگتی ہو، ابن اسود کہتے ہیں: یحییٰ (یعنی ابن آدم) کہتے ہیں: میں نے ابو ایاس اسدی سے «بعل» کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: «بعل» وہ زمین ہے جو آسمان کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو، نضر بن شمیل کہتے ہیں: «بعل» بارش کے پانی کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1598]
جناب وکیع رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ «اَلْبَعْلُ الْكَبُوسُ» سے مراد ”وہ کھیتی ہے جو بارش سے سیراب ہوتی ہو۔“ ابن اسود کہتے ہیں کہ یحییٰ بن آدم رحمہ اللہ نے کہا کہ ”میں نے ابو ایاس اسدی سے «بَعْل» کے متعلق وضاحت پوچھی تو کہا، جو کھیتی بارش سے سیراب ہوتی ہو۔“ نضر بن شمیل رحمہ اللہ نے کہا: ” «بَعْل» سے مراد بارش کا پانی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
Sunan Abi Dawud Hadith 1598 in Urdu