سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب كم يؤدى في صدقة الفطر
باب: صدقہ فطر کتنا دیا جائے؟
حدیث نمبر: 1617
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْحِنْطَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدْ ذَكَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ هِشَامٍ، أَوْ مِمَّنْ رَوَاهُ عَنْهُ.
اس سند سے اسماعیل (اسماعیل ابن علیہ) سے یہی حدیث (نمبر: ۱۶۱۶ کے اخیر میں مذکور سند سے) مروی ہے اس میں حنطہٰ کا ذکر نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معاویہ بن ہشام نے اس حدیث میں ثوری سے، ثوری نے زید بن اسلم سے، زیدی اسلم نے عیاض سے، عیاض نے ابوسعید سے «نصف صاع من بُرٍّ» نقل کیا ہے، لیکن یہ زیادتی معاویہ بن ہشام کا یا اس شخص کا وہم ہے جس نے ان سے روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1617]
مسدد بواسطہ اسمٰعیل کی روایت میں ”گندم“ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”معاویہ بن ہشام نے ثوری سے مروی اس حدیث میں ابوسعید سے ”گندم کا آدھا صاع“ ذکر کیا ہے، مگر یہ معاویہ بن ہشام کا یا ان سے روایت کرنے والوں میں سے کسی کا وہم ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:4269) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الثوري مدلس و عنعن
والحديث السابق (الأصل : 1616) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65
إسناده ضعيف
الثوري مدلس و عنعن
والحديث السابق (الأصل : 1616) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65
Sunan Abi Dawud Hadith 1617 in Urdu