سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب في حقوق المال
باب: مال کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1661
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ الْإِبِلِ؟ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، زَادَ:" وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا".
عبید بن عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ پھر اس نے اوپر جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے «وإعارة دلوها» (اس کے تھن دودھ دوہنے کے لیے عاریۃً دینا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1661]
سیدنا عبید بن عمیر رحمہ اللہ (تابعی) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اونٹوں کا کیا حق ہے؟“ تو مذکورہ بالا کی مانند ذکر کیا اور مزید کہا: ”اس کا ڈول عاریتاً دے دینا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:18997)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة 6 (988) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (988)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1661 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1661
1661. اردو حاشیہ: ڈول عاریتاً دینے سے مراد معروف پانی کھینچنے کا برتن ہوسکتا ہے۔ یہ بھی خیر میں ایک تعاون کی ایک صورت ہے اور یہ سب کام مستحب مندوب اورفضیلت وشرف والے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1661]
Sunan Abi Dawud Hadith 1661 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← عبيد بن عمير الجندعي