🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب في الجراد للمحرم
باب: محرم کے لیے ٹڈی کا شکار جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1855
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ جَابَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ:" الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ".
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1855]
جناب کعب (کعب احبار رضی اللہ عنہ) سے منقول ہے کہ ٹڈی سمندر کے شکار میں سے ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14675، 19238) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی میمون ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ميمون بن جابان وثقه العجلي وابن حبان والذهبي في الكاشف فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب الأحبار، أبو إسحاقمقبول
👤←👥نفيع بن رافع المدني، أبو رافع
Newنفيع بن رافع المدني ← كعب الأحبار
ثقة
👤←👥ميمون بن جابان البصري، أبو الحكم
Newميمون بن جابان البصري ← نفيع بن رافع المدني
مقبول
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ميمون بن جابان البصري
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1855 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1855
1855. اردو حاشیہ: ان میں سے پہلی روایت اور کعب احبار کے قول کو ہمارے فاضل محقق نے حسن قرار دیا ہے۔لیکن دیگر آئمہ کے نزدیک یہ تینوں روایات ضعیف ہیں۔میمون بن جابان کی توثیق مختلف فیہ ہے۔اس لئے ان کاضعیف ہونا ہی راحج ہے۔ خیال رہے کہ مشہور یہ ہے جیسا کہ موطا امام مالکرحمۃ اللہ علیہ میں کعب احبار رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول بیان کیا گیا ہے۔کہ ٹڈی د ر اصل مچھلیوں کی چھینک سے پیدا ہوتی ہے۔اورسال میں دو دفعہ ایسا ہوتا ہے۔ مگر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی یہ بات تسلیم نہیں کی۔اور راحج یہی ہے کہ یہ زمین کابری جانور ہے اور اس کےشکار میں فدیہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1855]

Sunan Abi Dawud Hadith 1855 in Urdu