سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب الصلاة بجمع
باب: مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1930
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَا:" صَلَّيْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِالْمُزْدَلِفَةِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ كَثِيرٍ".
سعید بن جبیر اور عبداللہ بن مالک سے روایت ہے وہ دونوں کہتے ہیں: ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب و عشاء ایک اقامت سے پڑھیں، پھر راوی نے ابن کثیر کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1930]
سعید بن جبیر اور عبداللہ بن مالک دونوں سے روایت ہے کہ: ”ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک تکبیر کے ساتھ پڑھیں۔“ اور محمد بن کثیر کی روایت کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الحج 47 (1288)، سنن الترمذی/ الحج 56 (888)، سنن النسائی/ الحج 207 (3033)، (تحفة الأشراف: 7052)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/280، 2/2، 3، 33، 59، 62، 79، 81) (صحیح)» (اس میں قاضی شریک بن عبداللہ ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت موجود ہے، اذان اور ہر صلاة میں اقامت کے اثبات کے ساتھ جیسے تفصیل گزری)
قال الشيخ الألباني: صحيح بالزيادة المذكورة آنفا
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1288)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1930 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1930
1930. اردو حاشیہ: اس روایت میں بھی ایک تکبیر کے ساتھ دو نمازیں پڑھنے کازکر ہے۔جو کہ صحیح نہیں ہے شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ روایت (لکل صلاۃ) (ہر نماز کے لئے الگ تکبیر کہی) کے اضافے کے ساتھ صحیح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1930]
Sunan Abi Dawud Hadith 1930 in Urdu
عبد الله بن مالك الهمداني ← عبد الله بن عمر العدوي