🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب في العضل
باب: عورتوں کو نکاح سے روکنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2087
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ:" كَانَتْ لِي أُخْتٌ تُخْطَبُ إِلَيَّ، فَأَتَانِي ابْنُ عَمّ لِي فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، ثُمَّ طَلَّقَهَا طَلَاقًا لَهُ رَجْعَةٌ، ثُمَّ تَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَلَمَّا خُطِبَتْ إِلَيَّ أَتَانِي يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ لَا أُنْكِحُهَا أَبَدًا، قَالَ: فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ سورة البقرة آية 232 الْآيَةَ، قَالَ: فَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ".
معقل بن یسار کہتے ہیں کہ میری ایک بہن تھی جس کے نکاح کا پیغام میرے پاس آیا، اتنے میں میرے چچا زاد بھائی آ گئے تو میں نے اس کا نکاح ان سے کر دیا، پھر انہوں نے اسے ایک طلاق رجعی دے دی اور اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو گئی، پھر جب اس کے لیے میرے پاس ایک اور نکاح کا پیغام آ گیا تو وہی پھر پیغام دینے آ گئے، میں نے کہا: اللہ کی قسم میں کبھی بھی ان سے اس کا نکاح نہیں کروں گا، تو میرے ہی متعلق یہ آیت نازل ہوئی: «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن» اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو (سورۃ البقرہ: ۲۳۲) راوی کا بیان ہے کہ میں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیا، اور ان سے اس کا نکاح کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التفسیر 40 (4529)، النکاح 60 (5130)، الطلاق 44 (5330، 5331)، سنن الترمذی/التفسیر 3 (2981)، (تحفة الأشراف: 11465)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ النکاح (11041) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4529)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معقل بن يسار المزني، أبو علي، أبو يسار، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← معقل بن يسار المزني
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥عباد بن راشد التميمي
Newعباد بن راشد التميمي ← الحسن البصري
صدوق له أوهام
👤←👥عبد الملك بن عمرو القيسي، أبو عامر
Newعبد الملك بن عمرو القيسي ← عباد بن راشد التميمي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الملك بن عمرو القيسي
ثقة ثبت
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2087 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2087
فوائد ومسائل:
1: اگر عورت شرع واخلاق کی حدود میں رہتے ہوئے کہیں نکاح کا عندیہ دے تو اس کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔
شرع واخلاق سے باہر نکلنا تو کسی بھی اسلامی معاشرے میں قبول نہیں ہو سکتا۔
نیز یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں حالانکہ آیت کریمہ کے ظاہر الفاظ میں نکاح کی نسبت عورتوں کی طرف ذکر ہوئی ہے۔

2: ہمارے معاشرے میں عورتیں بالعموم بعض اسباب کے تحت اپنی اس ضرورت (نکاح ثانی) کا اظہار نہیں کرتی ہیں اس لئے اولیاء کے ذمے ہے کہ ان کی اس فطری اور اخلاقی ضرورت کا احساس کریں، اس طرح عورت کو مادی ومعاشرتی تحفظ ملتا ہے اور ایک شرعی فریضہ ادا ہوتا ہے۔
تعجب ہے کہ اس نام نہاد ترقی یافتہ دور میں بہت سے مسلمان نکاح ثانی کو بہت برا سمجھتے ہیں۔
چاہیے کہ اس سنت کا احیاء ہو جیسے کہ سید احمد شہید اور اسمعیل شہید رضی اللہ نے کیا تھا۔

3: جب آدمی جذبات میں آکر کوئی غلط قسم اٹھالے تو کفارہ دے اور صحیح عمل اختیار کرے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2087]