سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب من أنكر ذلك على فاطمة
باب: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا پر نکیر کرنے والوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2296
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدُفِعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقُلْتُ:" فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طُلِّقَتْ فَخَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا"، فَقَالَ سَعِيدٌ:" تِلْكَ امْرَأَةٌ فَتَنَتِ النَّاسَ، إِنَّهَا كَانَتْ لَسِنَةً فَوُضِعَتْ عَلَى يَدَيْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى".
میمون بن مہران کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو سعید بن مسیب کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو طلاق دی گئی تو وہ اپنے گھر سے چلی گئی (ایسا کیوں ہوا؟) تو سعید نے جواب دیا: اس عورت نے لوگوں کو فتنے میں مبتلا کر دیا تھا کیونکہ وہ زبان دراز تھی لہٰذا اسے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس رکھا گیا جو نابینا تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18021) (صحیح)» (لیکن ابن المسیب کا یہ بیان خلاف واقعہ، یعنی، فاطمہ کی منتقلی تین طلاق کے سبب تھی)
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
السند حسن إلي سعيد بن المسيب ولكنه لم يذكر من حدثه بھذا فالخبر منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
ضعيف
السند حسن إلي سعيد بن المسيب ولكنه لم يذكر من حدثه بھذا فالخبر منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥ميمون بن مهران الجزري، أبو أيوب ميمون بن مهران الجزري ← سعيد بن المسيب القرشي | ثقة فقيه وكان يرسل | |
👤←👥جعفر بن برقان الكلابي، أبو عبد الله جعفر بن برقان الكلابي ← ميمون بن مهران الجزري | ثقة في غير الزهري، وضعيف في حديث الزهري | |
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة زهير بن معاوية الجعفي ← جعفر بن برقان الكلابي | ثقة ثبت | |
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله أحمد بن يونس التميمي ← زهير بن معاوية الجعفي | ثقة حافظ |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2296 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2296
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، گویا اس میں ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہونے کی جو وجہ بیان کی گئی ہے، وہ صحیح نہیں ہے اس کی وجہ وہی ہے جو صحیح احادیث میں بیان ہوئی ہے کہ ابن ام مکتوم بصارت سے محروم تھے تو وہاں اس کے لئے پردے کی پابندی ضروری نہیں تھی۔
یہ روایت ضعیف ہے، گویا اس میں ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہونے کی جو وجہ بیان کی گئی ہے، وہ صحیح نہیں ہے اس کی وجہ وہی ہے جو صحیح احادیث میں بیان ہوئی ہے کہ ابن ام مکتوم بصارت سے محروم تھے تو وہاں اس کے لئے پردے کی پابندی ضروری نہیں تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2296]
ميمون بن مهران الجزري ← سعيد بن المسيب القرشي