سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب كفارة من أتى أهله في رمضان
باب: رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی قصہ مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا تھیلا لایا گیا جس میں بیس صاع کھجوریں تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16176) (منكر)» (مقدار کی بات منکر ہے جو مؤلف کے سوا کسی کے یہاں نہیں ہے) نوٹ: سند ایک ہے، لیکن اگلی حدیث کے حکم میں اختلاف ہے
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2395 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2395
فوائد ومسائل:
گزشتہ حدیث: 2393 میں بیان کردہ مقدار پندرہ صاع ہی صحیح ہے۔
گزشتہ حدیث: 2393 میں بیان کردہ مقدار پندرہ صاع ہی صحیح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2395]
عباد بن عبد الله القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق