سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب تأخير قضاء رمضان
باب: رمضان کے روزے کی قضاء میں دیر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2399
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ:" إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا: مجھ پر ماہ رمضان کی قضاء ہوتی تھی اور میں انہیں رکھ نہیں پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2399]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”مجھ پر رمضان کے روزے باقی ہوتے اور میں ان کی قضا نہ کر پاتی تھی کہ شعبان آ جاتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 40 (1950)، صحیح مسلم/الصیام 26 (1146)، ن الصیام 36 (2321)، سنن ابن ماجہ/الصیام 13 (1669)، (تحفة الأشراف: 17777)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصیام 66 (783)، موطا امام مالک/الصیام 20 (54)، مسند احمد (6/124، 179) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1950) صحيح مسلم (1146)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2399 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2399
فوائد ومسائل:
(1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کے باعث انہیں موقع نہیں ملتا تھا کہ روزے رکھ سکیں حتی کہ شعبان آ جاتا اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے روزے رکھتے تھے تو انہیں بھی قضا کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔
(2) اس یقین پر کہ روزے کی قضا کرنے کا موقع مل جائے گا، تاخیر کرنا مباح ہے۔
(3) شوہر کی خدمت کا اہتمام کرنا بیوی کے فرائض میں شامل ہے۔
(4) اگر رمضان آ جائے اور قضا نہ کر سکے تو رمضان کے بعد قضا کرے۔
اس صورت میں کچھ صحابہ و تابعین وغیرہم کا قول ہے کہ قضا کرنے کے ساتھ ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلائے اور کچھ کہتے ہیں کہ سوائے قضا کرنے کے اور کچھ لازم نہیں ہے۔
(1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کے باعث انہیں موقع نہیں ملتا تھا کہ روزے رکھ سکیں حتی کہ شعبان آ جاتا اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے روزے رکھتے تھے تو انہیں بھی قضا کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔
(2) اس یقین پر کہ روزے کی قضا کرنے کا موقع مل جائے گا، تاخیر کرنا مباح ہے۔
(3) شوہر کی خدمت کا اہتمام کرنا بیوی کے فرائض میں شامل ہے۔
(4) اگر رمضان آ جائے اور قضا نہ کر سکے تو رمضان کے بعد قضا کرے۔
اس صورت میں کچھ صحابہ و تابعین وغیرہم کا قول ہے کہ قضا کرنے کے ساتھ ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلائے اور کچھ کہتے ہیں کہ سوائے قضا کرنے کے اور کچھ لازم نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2399]
Sunan Abi Dawud Hadith 2399 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق