سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب في نسخ نفير العامة بالخاصة
باب: جہاد کے لیے سارے آدمیوں کا نکلنا منسوخ ہے صرف مخصوص جماعت جہاد کرے گی۔
حدیث نمبر: 2505
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِلا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا سورة التوبة آية 39، وَ مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ إِلَى قَوْلِهِ يَعْمَلُونَ سورة التوبة آية 120 ـ 121 نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الَّتِي تَلِيهَا وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً سورة التوبة آية 122.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں «إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» ”اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا“ (سورۃ التوبہ: ۳۹) اور «ما كان لأهل المدينة» سے «يعملون» ”مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں“ (سورۃ التوبہ: ۱۰) کو بعد والی آیت «وما كان المؤمنون لينفروا كافة» ”مناسب نہیں کہ مسلمان سب کے سب جہاد کے لیے نکل پڑیں“ (سورۃ التوبہ: ۱۲۲) نے منسوخ کر دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2505]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”سورہ التوبہ (کی آیت نمبر 39) ﴿إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴾ [سورة التوبة: 39] ”اگر تم جہاد کے لیے نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں درد ناک عذاب سے دوچار کر دے گا“ اور (آیات 120 اور 121) ﴿مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا عَن رَّسُولِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ﴾ [سورة التوبة: 120-121] ”اہل مدینہ اور ان کے اردگرد کے دیہاتیوں کو روا نہیں (کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو رسول کی جان سے پیاری سمجھیں۔۔۔)“ ان آیات کو اس کے بعد والی آیت (نمبر 122) ﴿وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً﴾ [سورة التوبة: 122] نے منسوخ کر دیا ہے، جس میں ہے ”اور مومنوں کو لائق نہیں کہ یہ سب کے سب جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوں۔ (ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر جماعت میں سے ایک گروہ نکلتا تاکہ وہ باقی دین میں سمجھ حاصل کرتے اور جب یہ (جہاد سے) لوٹ کر آتے تو اپنی قوم کو بھی ڈراتے تاکہ وہ بھی متنبہ رہیں۔)““ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6258) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2505 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2505
فوائد ومسائل:
1۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر کا مفہوم یہ ہے کہ ہرجہاد میں تمام مسلمانوں کا نکلنا منسوخ ہے جبکہ دیگر مفسرین کا کہنا یہ ہے کہ یہ آیات محکم ہیں۔
اور جہاد میں احوال وظروف کا خیال ر کھنا چاہیے۔
اور ایک جماعت کو دارالسلام میں بھی لازما رکنا چاہیے تاکہ مرکز بالکل خالی نہ رہ جائے۔
2۔
آیت نمبر 122 سے یہ مسئلہ بالکل واضح ہوتا ہے کہ جہاد میں عملا مشغول ہوکر تفقہ فی الدین حاصل ہوتا ہے۔
وہ عام حالات میں حاصل نہیں ہوتا۔
1۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر کا مفہوم یہ ہے کہ ہرجہاد میں تمام مسلمانوں کا نکلنا منسوخ ہے جبکہ دیگر مفسرین کا کہنا یہ ہے کہ یہ آیات محکم ہیں۔
اور جہاد میں احوال وظروف کا خیال ر کھنا چاہیے۔
اور ایک جماعت کو دارالسلام میں بھی لازما رکنا چاہیے تاکہ مرکز بالکل خالی نہ رہ جائے۔
2۔
آیت نمبر 122 سے یہ مسئلہ بالکل واضح ہوتا ہے کہ جہاد میں عملا مشغول ہوکر تفقہ فی الدین حاصل ہوتا ہے۔
وہ عام حالات میں حاصل نہیں ہوتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2505]
Sunan Abi Dawud Hadith 2505 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي