🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب في كسب المعلم
باب: معلم (مدرس) کو تعلیم کی اجرت لینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3417
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ، فَقُلْتُ: مَا تَرَى فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا أَوْ تَعَلَّقْتَهَا.
اس سند سے بھی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن اس سے پہلی والی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں یہ ہے کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے دونوں مونڈھوں کے درمیان ایک انگارا ہے جسے تم نے گلے کا طوق بنا لیا ہے یا اسے لٹکا لیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3417]
جناب جنادہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کی مانند روایت کیا اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کی بابت آپ کی کیا رائے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ انگارہ ہے جسے تو نے اپنے کندھوں کے درمیان ڈال لیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5079) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں بقیہ ہیں جو صدوق کے درجہ کے راوی ہیں، یہاں حرف تحدیث کی صراحت ہے، عنعنہ کی حالت میں تدلیس کا اندیشہ ہوتا ہے، نیز مسند احمد (5؍324) ابو المغیرہ نے متابعت کی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی 256)
وضاحت: ۱؎: جمہور نے اس کی اجازت دی ہے اور دلیل میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث پیش کی ہے کہ جن کاموں پر تم اجرت لیتے ہو ان میں بہتر اللہ کی کتاب ہے نیز اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جس میں تعلیم قرآن کے عوض عورت سے نکاح کا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3416)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبادة بن الصامت الأنصاري، أبو الوليدصحابي
👤←👥جنادة بن أبي أمية الأزدي، أبو عبد الله
Newجنادة بن أبي أمية الأزدي ← عبادة بن الصامت الأنصاري
مختلف في صحبته
👤←👥عبادة بن نسي الكندي، أبو عمر
Newعبادة بن نسي الكندي ← جنادة بن أبي أمية الأزدي
ثقة
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص
Newعمرو بن عثمان القرشي ← عبادة بن نسي الكندي
ثقة
👤←👥بشر بن عبد الله الشامي
Newبشر بن عبد الله الشامي ← عمرو بن عثمان القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← بشر بن عبد الله الشامي
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥كثير بن عبيد المذحجي، أبو الحسن
Newكثير بن عبيد المذحجي ← بقية بن الوليد الكلاعي
ثقة
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص
Newعمرو بن عثمان القرشي ← كثير بن عبيد المذحجي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3417 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3417
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
معلم (قرآن) کی کمائی قرآن مجید کی تعلیم دینے والے کی اجرت پر فقہاء نے طویل بحثیں کی ہیں۔
مختلف روایات عمل صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمیعن اور آثار سلف کو سامنے رکھا جائے۔
تو قرآن مجید کی تعلیم کے حوالے سے تین صورتیں سامنے آتی ہیں۔


قرآن مجید کی تعلیم مسلمان معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
تمام ایسے لوگ جو قرآن مجید کا علم رکھتے ہیں۔
ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے کام کاج سے وقت نکا ل کر قرآن مجید کی تعلیم دیں۔
جس طرح عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اصحاب صفہ رضوان اللہ عنہم اجمیعن میں سے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھاتے تھے۔
یہ عمل خالصتا لوجہ اللہ ہونا چاہیے۔
اس پر کسی طرح کی اجرت لینا ناجائز ہے۔
اس باب کی دونوں حدیثوں کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے لیکن دوسری روایات سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
جیسے حضرات صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمیعن کا ایک سفر میں دم کرکے اس کے بدلے میں بکریاں لینے کا واقعہ ہے جس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفی فرمائی۔
بلکہ اس کی توثیق فرماکر اس کی تحسین فرمائی، (صحیح البخاري، الإجارة۔
باب ما یعطی في الرقیة) یہ واقعہ یہاں بھی اگلے باب میں آرہا ہے۔
ان دونوں قسم کی روایات میں تطبیق کی یہی صورت ہے۔
کہ تعلیم قرآن پر اس شخص کا اجرت لینا مستحسن نہیں جو اس سے بے نیاز ہو تاہم دوسرے لوگوں کےلئے اس کے جواز سے مفر نہیں۔
بالخصوص جب کہ موجودہ مسلمان ممالک میں حکومتی سطح پرتعلیم وتدریس قرآ ن کا قطعا کوئی اہتمام نہیں ہے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر دی کہ بعد کے زمانوں میں لوگ قرآن مجید پڑھ کر اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کیا کریں گے۔
(جامع الترمذي، فضائل القرآن، باب:25) اس سے مراد ایسے لوگ ہیں۔
جن کا پیشہ ہی مانگنا ہوتا ہے۔
بھیک کےلئے قرآن کو استعمال کرنا چونکہ قرآن کی عظمت وحرمت کے منافی ہے۔
اس لئے واقعی یہ انداز مذموم اور حرام ہے۔


اگر کوئی حکومت یا ادارہ محسوس کرے۔
کہ قرآن مجید کی تعلیم کے لئے عمومی کوششیں ناکافی ہیں۔
اور وہ ایسے لوگوں کی خدمات حاصل کریں۔
جو دیگر ذرائع معاش کو ترک کرکے صرف اسی کام میں مشغول ہوجایئں۔
اور ہمہ وقت مدارس میں قرآن مجید کی تعلیم دیں۔
تو ان کے لئے مناسب وظیفہ معاش مقرر کرنا جائز ہے۔
جس طرح کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ انتظام کیا تھا کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمات حاصل کرکے انھیں شام بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو قرآن مجید پڑھایئں۔
اور فقہ سکھایئں (أسد الغابة)

تذکرہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ) حضرت عمران بن حصین کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دین سکھانے کےلئے بصرہ روانہ فرمایا۔
(أسد الغابة)

تذکرہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ) یہ بات قابل غو ر ہے کہ اپنے طور پرقرآن پڑھانے کی اجرت سے منع کرنے کی روایات حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے منقول ہیں۔
یہی حضرات قرآن مجید کی قراءت اور تعلیم کی طرف متوجہ تھے۔
اور یقینا ً اس پر کوئی اجرت قبول نہ فرماتے تھے۔
لیکن جب حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باقاعدہ حکومت کی طرف سے ان کی خدمات حاصل کیں تو انہوں نے یہ منصب قبول کرلیا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3417]

Sunan Abi Dawud Hadith 3417 in Urdu