سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب في طلب القضاء والتسرع إليه
باب: عہدہ قضاء کو طلب کرنا اور فیصلہ میں جلدی کرنا صحیح نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِلَ إِلَيْهِ، وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ"، وقَالَ وَكِيعٌ: عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ أَبُو عَوَانَةَ: عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: ”جو شخص منصب قضاء کا طالب ہوا اور اس (عہدے) کے لیے مدد چاہی ۱؎ وہ اس کے سپرد کر دیا گیا ۲؎، جو شخص اس عہدے کا خواستگار نہیں ہوا اور اس کے لیے مدد نہیں چاہی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے راہ صواب پر رکھتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3578]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس نے قاضی کا عہدہ طلب کیا اور اس کے لیے لوگوں سے مدد چاہی (سفارشیں کرائیں) تو یہ منصب اور کام اسی پر ڈال دیا جائے گا۔ (اللہ کی طرف سے اس کی کوئی مدد نہ ہو گی) اور جس نے اسے طلب کیا نہ لوگوں سے مدد چاہی، تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے سیدھی راہ سجھاتا رہتا ہے۔“ وکیع نے اس روایت کی سند یوں بیان کی ہے «عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » اور ابوعوانہ نے کہا «عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ» [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأحکام 1 (1323)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 1 (2309)، (تحفة الأشراف: 256)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 220) (ضعیف)» (اس کے راوی بلال لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی سفارشیں کرائے گا۔
۲؎: یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہ ہو گی۔
۲؎: یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1323،1324) ابن ماجه (2309)
عبد الأعلي الثعلبي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
إسناده ضعيف
ترمذي (1323،1324) ابن ماجه (2309)
عبد الأعلي الثعلبي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 3578 in Urdu
بلال بن أبي بردة الأشعري ← أنس بن مالك الأنصاري