سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
133. باب المرأة تغسل ثوبها الذي تلبسه في حيضها
باب: عورت حیض میں پہنے ہوئے کپڑوں کو دھلے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 358
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ يَذْكُرُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:"مَا كَانَ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ، فَإِنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ بَلَّتْهُ بِرِيقِهَا ثُمَّ قَصَعَتْهُ بِرِيقِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے کسی کے پاس سوائے ایک کپڑے کے کوئی اور کپڑا نہیں ہوتا تھا، اسی کپڑے میں اسے حیض (بھی) آتا تھا، اگر اس میں (حیض کا) کچھ خون لگ جاتا تو وہ اپنے تھوک سے اسے تر کرتی پھر اسے تھوک کے ذریعہ ناخن سے کھرچ دیتی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 358]
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”ہم ازواجِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محض ایک ایک ہی کپڑا ہوتا تھا، اسی میں ایامِ حیض گزارتی تھیں۔ اگر کہیں کوئی خون کا دھبہ لگ جاتا تو وہ اسے اپنے لعاب سے گیلا کرتیں اور پھر اسے مل دیتی تھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 11 (312)، (تحفة الأشراف: 17575)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة 104 (1055) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 358 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 358
358۔ اردو حاشیہ:
یہ اس صورت میں ہے جب کوئی معمولی داغ، دھبہ یا قطرہ لگا ہو اگر زیادہ لگا ہو تو اسے پانی سے بالاہتمام دھونا لازم ہے جیسے کہ آئندہ احادیث میں آ رہا ہے۔
یہ اس صورت میں ہے جب کوئی معمولی داغ، دھبہ یا قطرہ لگا ہو اگر زیادہ لگا ہو تو اسے پانی سے بالاہتمام دھونا لازم ہے جیسے کہ آئندہ احادیث میں آ رہا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 358]
Sunan Abi Dawud Hadith 358 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق