سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب في قضاء القاضي إذا أخطأ
باب: اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 3585
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيث، قَالَ: يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ وَأَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ، فَقَالَ: إِنِّي إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِرَأْيِي فِيمَا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهِ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ دونوں ترکہ اور کچھ چیزوں کے متعلق جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو چکی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں جس میں مجھ پر کوئی حکم نہیں نازل کیا گیا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3585]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی کہ ان دو آدمیوں کا وراثت میں جھگڑا تھا اور بھی چند دوسری چیزیں تھیں جن کے نشانات مٹ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز میں مجھ پر کچھ نازل نہ ہوا ہو اس میں، میں اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 18174) (صحیح)» (سابقہ حدیث کا نوٹ ملاحظہ ہو)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3770)
انظر الحديث السابق (3584)
مشكوة المصابيح (3770)
انظر الحديث السابق (3584)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 3585 in Urdu
عبد الله بن رافع المخزومي ← أم سلمة زوج النبي