🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب فِي بَيْعِ الْمُكَاتَبِ إِذَا فُسِخَتِ الْكِتَابَةُ
باب: عقد کتابت فسخ ہو جانے پر مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3930
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ لِتَسْتَعِينَ فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا عَدَّةً وَاحِدَةً وَأَعْتِقَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ الزُّهْرِيِّ زَادَ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِهِ مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَالْوَلَاءُ لِي إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہو گی ؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا (کیسی لغو بات ہے) ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3930]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنی کتابت کے سلسلے میں مدد لینے کے لیے آئیں اور کہا: ”تحقیق میں نے اپنے گھر والوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کیا کروں گی۔ چنانچہ آپ میری کچھ مدد کریں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اگر تیرے گھر والے (مالک) پسند کریں تو تیری یہ ساری رقم میں یکمشت انہیں دے دیتی ہوں اور تمہیں آزاد کر دیتی ہوں اور تیرا ولاء میرے لیے ہو گا۔“ تو وہ ان کے پاس گئی اور (ہشام نے) زہری کی روایت کے مانند بیان کیا۔ اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے آخر میں یہ اضافہ ہے: ”لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ ایک کہتا ہے کہ اے فلاں! تم آزاد کر دو اور ولاء میرا رہا، حالانکہ ولاء اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2233)، (تحفة الأشراف: 17296) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے باب کی مطابقت اس طرح ہے کہ: مکاتب غلام کو بیچنا جائز نہیں، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کی خرید و فروخت کو جائز قرار دیا: تو گویا مکاتبت کا معاملہ فسخ کر دیا گیا تب ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدا اور یہی مطابقت اگلی حدیث میں بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2563) صحيح مسلم (1504)
وانظر الحديث السابق (2233)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر
Newوهيب بن خالد الباهلي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← وهيب بن خالد الباهلي
ثقة ثبت
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3930 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3930
فوائد ومسائل:
(1) غلام کو آزاد کرنے پر غلام اور اس کے مالک کے مابین جو ربط ونسبت قائم ہوتی ہے، اسے ولاء کہتے ہیں (واو کے فتحہ کے ساتھ) اور اس کی حیثیت شریعت میں نسب کی مانند ہوتی ہے۔
آزاد کرنے والے کو مولیٰ معتِق (تا کے کسرہ کے ساتھ۔
یعنی آزاد کرنے والا) اور آزاد کیے جانے والے کو مولی معتَق کہتے ہیں۔
(تا کے فتحہ کے ساتھ آزاد کیے جانےوالا)۔
نیز وہ مال جو کوئی غلام یا آزاد کردہ غلام چھوڑ مرے وہ بھی ولاء ہی کہلاتا ہے۔

(2) اس موضوع کی احادیث میں حضرت عائشہ محض مکاتبت کی رقم ادا نہ کرنا چاہتی تھیں، بلکہ اسے خرید کر آزاد کرنا چاہتی تھیں۔
جیسے کہ مندرجہ احادیث میں آیا ہے۔
پہلی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے خرید لو اور آزاد کردو۔
اور دوسری حدیث میں ہے، میں یکمشت ادا کردوں۔
اس توضیح سے مکاتبت کا معاہدہ منسوخ شمار ہوگا۔

(3) وعظ ونصیحت کےلئے حکیمانہ اسلوب اختیار کرنا چاہئے، کسی کو برسرعام براہ راست خطاب کرکے ٹوکنا خلاف مصلحت ہوتا ہے۔

(4) سنت کے مطابق کیے جانے والے تمام اعمال کتاب اللہ میں سے ہیں۔
کیونکہ سنت قرآن کریم کی توضیح وتشریح ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا ہے اور جو کچھ رسول تمھیں دے دیں وہ لےلو اور جس سے روک دیں اور اس سے رک جاو۔
جس نے رسول اللہ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل مت کرو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3930]

Sunan Abi Dawud Hadith 3930 in Urdu