سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب فِي صِلَةِ الشَّعْرِ
باب: دوسرے کے بال اپنے بال میں جوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4169
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْوَاصِلَاتِ، وَقَالَ عُثْمَانُ: وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، ثُمَّ اتَّفَقَا: وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ يَعْقُوبَ زَادَ عُثْمَانُ كَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ اتَّفَقَا، فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ: بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْوَاصِلَاتِ، وَقَالَ عُثْمَانُ: وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، ثُمَّ اتَّفَقَا: وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، قَالَ عُثْمَانُ: لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، قَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ ثُمَّ قَرَأَ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، قَالَتْ: إِنِّي أَرَى بَعْضَ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ، قَالَ: فَادْخُلِي فَانْظُرِي، فَدَخَلَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتِ؟ وَقَالَ عُثْمَانُ: فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ، فَقَالَ: لَوْ كَانَ ذَلِكَ مَا كَانَتْ مَعَنَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ نے جسم میں گودنے لگانے والیوں اور گودنے لگوانے والیوں پر لعنت کی ہے، (محمد کی روایت میں ہے) اور بال جوڑنے والیوں پر، (اور عثمان کی روایت میں ہے) اور اپنے بال اکھیڑنے والیوں پر، جو زیب و زینت کے واسطہ منہ کے روئیں اکھیڑتی ہیں، اور خوبصورتی کے لیے اپنے دانتوں میں کشادگی کرانے والیوں، اور اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلنے والیوں پر۔ تو یہ خبر قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت (ام یعقوب نامی) کو پہنچی جو قرآن پڑھا کرتی تھی، تو وہ عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر اور بال جوڑنے والیوں اور بال اکھیڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والیوں پر خوبصورتی کے لیے جو اللہ کی بنائی ہوئی شکل تبدیل کر دیتی ہیں پر لعنت کی ہے؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: میں ان پر کیوں نہ لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہو اور وہ اللہ کی کتاب کی رو سے بھی ملعون ہوں؟ تو اس عورت نے کہا: میں تو پورا قرآن پڑھ چکی ہوں لیکن یہ مسئلہ مجھے اس میں کہیں نہیں ملا؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو یہ مسئلہ ضرور پاتی پھر آپ نے آیت کریمہ «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» ”اور تمہیں جو کچھ رسول دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ“ (الحشر: ۷) پڑھی تو وہ بولی: میں نے تو اس میں سے بعض چیزیں آپ کی بیوی کو بھی کرتے دیکھا ہے، آپ نے کہا: اچھا اندر جاؤ اور دیکھو تو وہ اندر گئیں پھر باہر آئیں تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا دیکھا ہے؟ تو اس عورت نے کہا: مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی تو آپ نے فرمایا: اگر وہ ایسا کرتی تو پھر میرے ساتھ نہ رہتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4169]
(امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بواسطہ محمد بن عیسیٰ اور عثمان بن ابی شیبہ روایت کیا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لعنت کی ہے اللہ نے ان عورتوں پر جو جسم گودیں اور گدوائیں۔“ محمد بن عیسیٰ نے کہا: ”اور جو بال جوڑ کر لمبے کریں۔“ عثمان نے کہا: ”اور جو چہرے کے بال اکھیڑیں، پھر دونوں شیخ روایت میں متفق ہیں۔ اور جو حسن کی خاطر دانتوں میں خلا کروائیں، اللہ کی خلقت کو تبدیل کریں۔“ یہ بات بنو اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا۔ عثمان نے یہ اضافہ بیان کیا: ”اور اس نے پورا قرآن پڑھ رکھا تھا۔“ پھر دونوں شیخ روایت میں متفق ہیں، وہ خاتون سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: ”مجھے آپ سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو جسم گودیں اور گدوائیں۔“ محمد نے کہا: ”اور جو بال جوڑ کر لمبے کریں۔“ اور عثمان نے کہا: ”اور جو چہرے کے بال اکھیڑیں۔“ پھر دونوں روایت میں متفق ہیں۔ ”اور جو دانتوں میں خلا کروائیں۔“ عثمان نے کہا: ”زینت کی خاطر، اللہ کی خلقت کو بدلنے والیاں ہیں۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے کیا ہوا کہ میں ان پر لعنت نہ کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور یہ اللہ کی کتاب میں بھی وارد ہے۔“ وہ بولی: ”تحقیق میں نے پورا قرآن جو دو گتوں کے درمیان میں ہے پڑھا ہے، مجھے تو اس میں یہ حکم نہیں ملا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! اگر تو نے پڑھا ہوتا تو یقیناً پا لیتی۔“ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”اور رسول جو کچھ تمہیں دے دیں وہ لے لو اور جس سے روک دیں اس سے رک جاؤ۔“ عورت نے کہا: ”میں ان میں سے کئی چیزیں تمہاری بیوی پر بھی دیکھتی ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”اندر جاؤ اور دیکھ لو۔“ چنانچہ وہ اندر گئی اور پھر باہر آ گئی۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا دیکھا ہے؟“ عثمان نے کہا، عورت نے کہا: ”میں نے کچھ نہیں دیکھا۔“ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر یہ ہوتا تو وہ ہمارے ساتھ نہ ہوتی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر سورة الحشر 4 (4886)، اللباس 82 (5931)، 84 (5939)، 85 (5943)، 86 (5944)، 87 (5948)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2125)، سنن الترمذی/الأدب 33 (2782)، سنن النسائی/الزینة 24 (5102)، 26 (5110، 5111)، الزینة من المجتبی 18 (5254)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1989)، (تحفة الأشراف: 9450)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/409، 415، 434، 448، 454، 462، 465)، سنن الدارمی/الاشتذان 19 (2689) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5931) صحيح مسلم (2125)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4169 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4169
فوائد ومسائل:
1) مذکورہ اُمور باعثِ لعنت اور کبیرہ گناہ ہیں، ان سے بچنا واجب اور ان کا ارتکاب حرام ہے۔
2) دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کو لوگ انتہائی باریک نظر سے دیکھا کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنے قول کے خود اولین عامل اور نمونہ ہوں، بلا شبہ اس کے بغیر ان کی دعوت غیر معیاری ہو جاتی ہے، اس لیئے مبلغ اور داعی حضرات و خواتین کو خود باعمل ہو نا چاہیئے۔
اور اُنہیں ہمیشہ اس سخت ترین قرآنی وعید کو مدِ نظر رکھنا چاہیئے۔
(يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ)
3) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس معیار پر پورے اترتے تھے اور انہوں نے اپنے ایمانی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اگر ان کی بیوی خلافِ شریعت کاموں کی مرتکب ہوتی تو ان کے اہل میں نہ ہوتی۔
4) سورۃ حشر کی آیت 7 پوری شریعت کی جامع آیت ہے اور حجیت حدیث کی جامع دلیل بھی۔
1) مذکورہ اُمور باعثِ لعنت اور کبیرہ گناہ ہیں، ان سے بچنا واجب اور ان کا ارتکاب حرام ہے۔
2) دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کو لوگ انتہائی باریک نظر سے دیکھا کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنے قول کے خود اولین عامل اور نمونہ ہوں، بلا شبہ اس کے بغیر ان کی دعوت غیر معیاری ہو جاتی ہے، اس لیئے مبلغ اور داعی حضرات و خواتین کو خود باعمل ہو نا چاہیئے۔
اور اُنہیں ہمیشہ اس سخت ترین قرآنی وعید کو مدِ نظر رکھنا چاہیئے۔
(يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ)
3) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس معیار پر پورے اترتے تھے اور انہوں نے اپنے ایمانی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اگر ان کی بیوی خلافِ شریعت کاموں کی مرتکب ہوتی تو ان کے اہل میں نہ ہوتی۔
4) سورۃ حشر کی آیت 7 پوری شریعت کی جامع آیت ہے اور حجیت حدیث کی جامع دلیل بھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4169]
Sunan Abi Dawud Hadith 4169 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود