سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب في الخلوق للرجال
باب: مردوں کے لیے زعفران لگانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4177
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ ابْنِ أَبِي الْخُوَارِ، أَنَّه سَمِعُ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ يُخْبِرُ، عَنْ رَجُلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، زَعَمَ عُمَرُ: أَنَّ يَحْيَى سَمَّى ذَلِكَ الرَّجُلَ، فَنَسِيَ عُمَرُ اسْمَهُ أَنَّ عَمَّارًا، قَالَ: تَخَلَّقْتُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ بِكَثِيرٍ فِيهِ ذِكْرُ الْغُسْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ: وَهُمْ حُرُمٌ؟ قَالَ: لَا، الْقَوْمُ مُقِيمُونَ.
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خود اپنے ہاتھوں میں خلوق ملا، پہلی روایت زیادہ کامل ہے اس میں ”دھونے کا ذکر ہے“۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عمر بن عطاء سے پوچھا: وہ لوگ محرم تھے؟ کہا: نہیں، بلکہ سب مقیم تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10376) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه رجل مجھول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
إسناده ضعيف
فيه رجل مجھول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4177 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4177
فوائد ومسائل:
بعض محققین نے اس روایت کو بھی حسن کہا ہے، لہذا معلوم ہوا کہ زعفران کی ممانعت محض احرام کی وجہ سے نہ تھی، بلکہ مردوں کے لیئے عام حالات میں بھی ممنوع ہے۔
بعض محققین نے اس روایت کو بھی حسن کہا ہے، لہذا معلوم ہوا کہ زعفران کی ممانعت محض احرام کی وجہ سے نہ تھی، بلکہ مردوں کے لیئے عام حالات میں بھی ممنوع ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4177]
عمار بن ياسر العنسي ← عمر بن عطاء المكي