سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب إذا تتابع في شرب الخمر
باب: جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 4486
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَا أَدِي أَوْ مَا كُنْتُ لِأَدِيَ مَنْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا إِلَّا شَارِبَ الْخَمْرِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّ فِيهِ شَيْئًا إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ قُلْنَاهُ نَحْنُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جس پر حد قائم کروں اور وہ مر جائے تو میں اس کی دیت نہیں دوں گا، یا میں اس کی دیت دینے والا نہیں سوائے شراب پینے والے کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے والے کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جسے ہم نے خود مقرر کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4486]
امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: ”میں کسی پر حد قائم کروں (اور وہ مر جائے) تو کسی کی دیت نہ دوں سوائے شراب نوش کے۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی حد متعین نہیں فرمائی تھی۔ یہ حد ہم نے (مشورے سے) طے کی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الحدود 5 (6778)، صحیح مسلم/ الحدود 8 (1707)، سنن ابن ماجہ/ الحدود 16 (2569)، (تحفة الأشراف: 10254)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/125، 130) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (6778) ومسلم (1707) من طريق آخر عن أبي حصين به
رواه البخاري (6778) ومسلم (1707) من طريق آخر عن أبي حصين به
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي | |
👤←👥عمير بن سعيد النخعي، أبو يحيى عمير بن سعيد النخعي ← علي بن أبي طالب الهاشمي | ثقة | |
👤←👥عثمان بن عاصم الأسدي، أبو الحصين عثمان بن عاصم الأسدي ← عمير بن سعيد النخعي | ثقة ثبت سنى | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← عثمان بن عاصم الأسدي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥إسماعيل بن موسى، أبو محمد، أبو إسحاق إسماعيل بن موسى ← شريك بن عبد الله القاضي | صدوق يتشيع |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4486 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4486
فوائد ومسائل:
اس مسئلے میں پچھلا باب ملاخطہ ہو۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس بات سے بالاتر تھے کہ شریعت میں کوئی چیز محض اپنی رائے سے ناٖفذ کریں۔
انہوں نے شرعی اصولوں کے تحت اجتہاد اور مشورے سے یہ حد متعین کی ہے۔
اور یہ اصول بالکل حق ہے کہ حد لگانے میں مجرم کی صحت اور برداشت کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔
اس مسئلے میں پچھلا باب ملاخطہ ہو۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس بات سے بالاتر تھے کہ شریعت میں کوئی چیز محض اپنی رائے سے ناٖفذ کریں۔
انہوں نے شرعی اصولوں کے تحت اجتہاد اور مشورے سے یہ حد متعین کی ہے۔
اور یہ اصول بالکل حق ہے کہ حد لگانے میں مجرم کی صحت اور برداشت کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4486]
Sunan Abi Dawud Hadith 4486 in Urdu
عمير بن سعيد النخعي ← علي بن أبي طالب الهاشمي