سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب في القدر
باب: تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4697
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ ابْنِ يَعْمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، قَالَ: فَمَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: إِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَحَجُّ الْبَيْتِ وَصَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ وَالِاغْتِسَالُ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَلْقَمَةُ مُرْجِئٌ.
یحییٰ بن یعمر سے یہی حدیث کچھ الفاظ کی کمی اور بیشی کے ساتھ مروی ہے اس نے پوچھا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، بیت اللہ کا حج، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور جنابت لاحق ہونے پر غسل کرنا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: علقمہ مرجئی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10572) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4695)
انظر الحديث السابق (4695)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4697 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4697
فوائد ومسائل:
1: اسلام اللہ کی رضا کے لئے ظاہری اعضا کے صالح اعمال کا نام ہے۔
2: جنابت سے غسل فرض ہے، فرمایا: (وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا) اگر تم جنابت سے ہو تو غسل کر لیا کرو۔
3: اعمال ایمان اور اسلام کا لازمی حصہ ہیں۔
4: بدعقیدہ لوگ اگرروایات کی نقل میں سچے ہوں اور اپنی بدعت کے داعی نہ ہو ں تو ان کی روایات مقبول ہوتی ہیں، بلکہ اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو حدیث علقمہ کو پہنچی وہ اس کے عقائد کے برعکس تھی، اس نے من وعن بیان کردی۔
سچا ہونے کی وجہ سے اس راوی کی روایت بلند پایہ محدثین نے قبول کی۔
1: اسلام اللہ کی رضا کے لئے ظاہری اعضا کے صالح اعمال کا نام ہے۔
2: جنابت سے غسل فرض ہے، فرمایا: (وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا) اگر تم جنابت سے ہو تو غسل کر لیا کرو۔
3: اعمال ایمان اور اسلام کا لازمی حصہ ہیں۔
4: بدعقیدہ لوگ اگرروایات کی نقل میں سچے ہوں اور اپنی بدعت کے داعی نہ ہو ں تو ان کی روایات مقبول ہوتی ہیں، بلکہ اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو حدیث علقمہ کو پہنچی وہ اس کے عقائد کے برعکس تھی، اس نے من وعن بیان کردی۔
سچا ہونے کی وجہ سے اس راوی کی روایت بلند پایہ محدثین نے قبول کی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4697]
سليمان بن بريدة الأسلمي ← يحيى بن يعمر القيسي