سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
109. باب في التسبيح عند النوم
باب: سوتے وقت تسبیح پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5063
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ لِابْنِ أَعْبُدَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ أَحَبَّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ، وَكَانَتْ عِنْدِي فَجَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَتْ بِيَدِهَا، وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا، وَقَمَّتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، وَأَوْقَدَتِ الْقِدْرَ حَتَّى دَكِنَتْ ثِيَابُهَا وَأَصَابَهَا مِنْ ذَلِكَ ضُرٌّ، فَسَمِعْنَا أَنَّ رَقِيقًا أُتِيَ بِهِمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا يَكْفِيكِ , فَأَتَتْهُ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ حُدَّاثًا فَاسْتَحْيَتْ فَرَجَعَتْ، فَغَدَا عَلَيْنَا وَنَحْنُ فِي لِفَاعِنَا، فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهَا فَأَدْخَلَتْ رَأْسَهَا فِي اللِّفَاعِ حَيَاءً مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ: مَا كَانَ حَاجَتُكِ أَمْسِ إِلَى آلِ مُحَمَّدٍ؟ , فَسَكَتَتْ مَرَّتَيْنِ، فَقُلْتُ: أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ جَرَّتْ عِنْدِي بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَتْ فِي يَدِهَا، وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا، وَكَسَحَتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، وَأَوْقَدَتِ الْقِدْرَ حَتَّى دَكِنَتْ ثِيَابُهَا، وَبَلَغَنَا أَنَّهُ قَدْ أَتَاكَ رَقِيقٌ أَوْ خَدَمٌ، فَقُلْتُ لَهَا: سَلِيهِ خَادِمًا؟ , فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ الْحَكَمِ وَأَتَمَّ.
ابوسلورد بن ثمامہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابن اعبد سے کہا: کیا میں تم سے اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے متعلق واقعہ نہ بیان کروں، فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیاری تھیں اور میری زوجیت میں تھیں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان پڑ گئے، مشکیں بھرتے بھرتے ان کے سینے میں نشان پڑ گئے، گھر کی صفائی کرتے کرتے ان کے کپڑے گرد آلود ہو گئے، کھانا پکاتے پکاتے کپڑے کالے ہو گئے، اس سے انہیں نقصان پہنچا (صحت متاثر ہوئی) پھر ہم نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام اور لونڈیاں لائی گئی ہیں، تو میں نے فاطمہ سے کہا: اگر تم اپنے والد کے پاس جاتیں اور ان سے خادم مانگتیں تو تمہاری ضرورت پوری ہو جاتی، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، لیکن وہاں لوگوں کو آپ کے پاس بیٹھے باتیں کرتے ہوئے پایا تو شرم سے بات نہ کہہ سکیں اور لوٹ آئیں، دوسرے دن صبح آپ خود ہمارے پاس تشریف لے آئے (اس وقت) ہم اپنے لحافوں میں تھے، آپ فاطمہ کے سر کے پاس بیٹھ گئے، فاطمہ نے والد سے شرم کھا کر اپنا سر لحاف میں چھپا لیا، آپ نے پوچھا: کل تم محمد کے اہل و عیال کے پاس کس ضرورت سے آئی تھیں؟ فاطمہ دو بار سن کر چپ رہیں تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاتا ہوں: انہوں نے میرے یہاں رہ کر اتنا چکی پیسی کہ ان کے ہاتھ میں گھٹا پڑ گیا، مشک ڈھو ڈھو کر لاتی رہیں یہاں تک کہ سینے پر اس کے نشان پڑ گئے، انہوں نے گھر کے جھاڑو دیئے یہاں تک کہ ان کے کپڑے گرد آلود ہو گئے، ہانڈیاں پکائیں، یہاں تک کہ کپڑے کالے ہو گئے، اور مجھے معلوم ہوا کہ آپ کے پاس غلام اور لونڈیاں آئیں ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جا کر اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیں، پھر راوی نے حکم والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور پوری ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5063]
امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابن اعبد سے کہا: ”میں تمہیں اپنی اور فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ بتاؤں؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل میں سب سے بڑھ کر محبوب تھیں اور وہ میری زوجیت میں تھیں۔ وہ چکی چلاتی تھیں حتیٰ کہ ان کے ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے۔ مشکیزے میں پانی بھر کر لاتی تھیں، اس سے سینے پر نشان پڑ گئے۔ گھر میں جھاڑو دیتی تھیں اس سے کپڑے خراب ہو جاتے تھے۔ ہنڈیا کے نیچے آگ جلاتی تھیں تو اس سے کپڑے گندے ہو جاتے تھے اور اس سے انہیں اذیت بھی ہوتی تھی۔ پھر ہم نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام لائے گئے ہیں، تو میں نے کہا: اگر تم اپنے ابا کے پاس جاؤ اور ان سے کسی خادم کا کہو جو تمہارے کام کر دیا کرے (تو بہتر رہے)۔ چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں مگر پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ باتیں کرنے والے بیٹھے ہیں تو انہیں بات کرنے میں حیا آئی، لہٰذا وہ واپس لوٹ آئیں۔ اگلی صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ ہم لحاف اوڑھے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سر کے پاس بیٹھ گئے تو انہوں نے اپنے والد سے حیا کے باعث اپنا سر لحاف میں دے لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کل تمہیں آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کیا کام تھا؟“ تو وہ خاموش رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار پوچھا۔ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں عرض کیے دیتا ہوں۔ بلاشبہ یہ میرے ہاں چکی پیستی ہیں حتیٰ کہ ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے ہیں، مشک اٹھا کر پانی بھر کر لاتی ہیں حتیٰ کہ سینے پر نشان پڑ گئے ہیں، گھر میں جھاڑو دیتی ہیں اور کپڑے غبار آلود ہو جاتے ہیں، ہنڈیا کے نیچے آگ جلاتی ہیں حتیٰ کہ کپڑے سیاہ ہو جاتے ہیں، اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام یا خادم آئے ہیں، تو میں نے ان سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی خادم کا کہیں“، اور (مذکورہ بالا) روایت حکم کے ہم معنی ذکر کیا اور وہ زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5063]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2988)، (تحفة الأشراف: 10245) (ضعیف)» (اس کے راوی ابوالورد لین الحدیث ہیں، لیکن اصل واقعہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وانظر الحديث السابق (2988)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175
إسناده ضعيف
وانظر الحديث السابق (2988)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 5063 in Urdu
أبو الورد بن ثمامة القشيري ← علي بن أبي طالب الهاشمي