🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
88. باب ما جاء في السدل في الصلاة
باب: نماز میں سدل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ:" أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ عَطَاءً يُصَلِّي سَادِلًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا يُضَعِّفُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ.
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطاء کا یہ فعل (سدل کرنا) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: راوی کا اپنی روایت کردہ حدیث کے مخالف عمل اس حدیث کے ترک کرنے کے لئے قابل اعتبار نہیں، اصل اعتبار روایت کا ہے (اگر صحیح ہو) راوی کے عمل کا نہیں: «الحجة فيما روى، لا فيما رأى» نیز عطاء کا فتوی حدیث کے مطابق ثابت ہے جیسا کہ گزرا، اس لئے عطاء کے فعل سے حدیث کی تضعیف درست نہیں ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ سدل کرتے وقت بھول گئے ہوں یا کوئی دوسرا عذر لاحق ہو گیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليدثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عيسى البغدادي، أبو جعفر
Newمحمد بن عيسى البغدادي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 644 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 644
644۔ اردو حاشیہ:
پہلی سند حسن اور دوسری (روایت عسل) صحیح ہے۔ (شیخ البانی رحمہ اللہ ) اور تیسری روایت تابعی کا عمل اگرچہ سنداًً صحیح ہے مگر مذکورہ بالاحدیث کے برخلاف ہے اور کسی راوی کا اپنی روایت کے خلاف عمل کرنا اس روایت کے ضعیف ہونے کے دلیل نہیں ہے اور حق یہ ہے کہ نماز میں کپڑے کو لپیٹے بغیر سر پر کندھوں پر ویسے ہی ڈال لینا، یا منہ کو بند کر لینا جائز نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 644]