سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. باب الخط إذا لم يجد عصا
باب: سترہ کے لیے لاٹھی نہ ملے تو زمین پر لکیر کھینچ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 691
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُ شَرِيكًا صَلَّى بِنَا فِي جَنَازَةٍ الْعَصْرَ، فَوَضَعَ قَلَنْسُوَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ"، يَعْنِي فِي فَرِيضَةٍ حَضَرَتْ.
سفیان بن عیینہ کا بیان ہے کہ میں نے شریک کو دیکھا، انہوں نے ہمارے ساتھ ایک جنازے کے موقع پر عصر پڑھی تو اپنی ٹوپی (بطور سترہ) اپنے سامنے رکھ لی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥عبد الله بن محمد القرشي عبد الله بن محمد القرشي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 691 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 691
691۔ اردو حاشیہ:
سترہ میں مسنون تو یہی ہے کہ ایک ہاتھ ہو، لیکن اگر کوئی چیز میسر نہ ہو تو اس سے کم بھی کفایت کر جائے گی۔
سترہ میں مسنون تو یہی ہے کہ ایک ہاتھ ہو، لیکن اگر کوئی چیز میسر نہ ہو تو اس سے کم بھی کفایت کر جائے گی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 691]
عبد الله بن محمد القرشي ← سفيان بن عيينة الهلالي