سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
123. باب ما يستفتح به الصلاة من الدعاء
باب: نماز کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 762
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَابْنُ أَبِي فَرْوَةَ وغيرهما من فقهاء أهل المدينة فإذا قُلْتَ أَنْتَ ذَاكَ، فَقُلْ: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَعْنِي قَوْلَهُ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ.
شعیب بن ابی حمزہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن منکدر، ابن ابی فروہ، اور دیگر فقہائے اہل مدینہ نے کہا: جب تم اس مذکورہ دعا کو پڑھو تو «وأنا أول المسلمين» کے جگہ «وأنا من المسلمين» کہا کرو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19423) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 762 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 762
762۔ اردو حاشیہ:
اس کی توضیح سنن ابی داود حدیث نمبر: [760] کے فوائد میں کر دی گئی ہے کہ «وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس کا مفہوم یہ ہے: ”اے اللہ! تیرے احکام کی تعمیل میں، میں سب سے پیش پیش ہوں۔“ جیسے کہ آیت کریمہ ہے:
«قل ان كان للرحمن ولد فانا اول العابدين» [لزخرف: 81]
”کہیے کہ اگر (بالفرض) رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں ہی سب پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا۔“
حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا تھا: «وانا اول المؤمنين» [الاعراف: 143]
”میں ایمان لانے والوں میں سب سے آگے ہوں۔“
اس کی توضیح سنن ابی داود حدیث نمبر: [760] کے فوائد میں کر دی گئی ہے کہ «وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس کا مفہوم یہ ہے: ”اے اللہ! تیرے احکام کی تعمیل میں، میں سب سے پیش پیش ہوں۔“ جیسے کہ آیت کریمہ ہے:
«قل ان كان للرحمن ولد فانا اول العابدين» [لزخرف: 81]
”کہیے کہ اگر (بالفرض) رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں ہی سب پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا۔“
حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا تھا: «وانا اول المؤمنين» [الاعراف: 143]
”میں ایمان لانے والوں میں سب سے آگے ہوں۔“
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 762]