صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
666. (433) بَابُ إِيجَابِ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ عَلَى الْمُسَلِّمِ قَبْلَ الْفَرَاغِ مِنَ الصَّلَاةِ سَاهِيًا،
نماز مکمّل ہونے سے پہلے بھول کر سلام پھیرنے والے پرسہو کے دو سجدے کرنے واجب ہیں۔
حدیث نمبر: 1037
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُمْ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلًى لِبَنِي أَبِي أَحْمَدَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقَصُرَتِ الصَّلاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ"، فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاةِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ"
بنی ابی احمد کے آزاد کردہ غلام جناب ابوسفیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ تو ذوالیدین نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ اے اﷲ کے رسول، کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔“ تو اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کچھ بات تو یقیناً ہوئی ہے، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟“ تو صحابہ نے عرض کی کہ جی ہاں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیہ نماز مکمّل کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد (تشہد میں) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، 715، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، ومالك فى (الموطأ) برقم: 309، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، 1035، 1036، 1037، 1038، 1040 م، 1041، 1042، 1043، 1044، 1045، 1046، 1047، 1048، 1049، 1050، 1051، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3405، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥وهب الأسدي، أبو سفيان وهب الأسدي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥داود بن الحصين القرشي، أبو سليمان داود بن الحصين القرشي ← وهب الأسدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← داود بن الحصين القرشي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة حافظ | |
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى يونس بن عبد الأعلي الصدفي ← عبد الله بن وهب القرشي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1037 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1037
فوائد:
➊ انبیاء کرام پر عبادات و افعال میں نسیان طاری ہو سکتا ہے۔ لیکن انبیاء کرام اس حالت پر برقرار نہیں رہتے، (بلکہ ان پر سے نسیان کا ازالہ کر دیا جاتا ہے)۔
➋ اکیلا شخص کسی ایسی چیز کا دعویٰ کرے جو مجمعِ عام کے سامنے پیش آتی ہے، تو اس کے ثبوت کے لیے دیگر حاضرین سے پوچھا جائے اور اس صورت میں دوسرے لوگوں سے پوچھے بغیر اکیلے شخص کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔
➌ (ان احادیث میں) سہو کے دو سجدوں کا اثبات ہے۔ ہر سجدہ کے لیے تکبیر کہی جائے گی۔ یہ سجدے نماز کے سجدوں کی مثل ہیں کیونکہ مطلق سجدوں کا بیان ہوا ہے، اگر یہ عام معمول سے مختلف ہوتے تو اس کی ضرور وضاحت کر دی جاتی۔ سہو کے سجدوں کے بعد تشہد غیر مشروع ہے۔ اور نماز میں زیادتی کی صورت میں سجدہ سہو سلام پھیرنے کے بعد مشروع ہے۔ [شرح النووي: 70/5]
➊ انبیاء کرام پر عبادات و افعال میں نسیان طاری ہو سکتا ہے۔ لیکن انبیاء کرام اس حالت پر برقرار نہیں رہتے، (بلکہ ان پر سے نسیان کا ازالہ کر دیا جاتا ہے)۔
➋ اکیلا شخص کسی ایسی چیز کا دعویٰ کرے جو مجمعِ عام کے سامنے پیش آتی ہے، تو اس کے ثبوت کے لیے دیگر حاضرین سے پوچھا جائے اور اس صورت میں دوسرے لوگوں سے پوچھے بغیر اکیلے شخص کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔
➌ (ان احادیث میں) سہو کے دو سجدوں کا اثبات ہے۔ ہر سجدہ کے لیے تکبیر کہی جائے گی۔ یہ سجدے نماز کے سجدوں کی مثل ہیں کیونکہ مطلق سجدوں کا بیان ہوا ہے، اگر یہ عام معمول سے مختلف ہوتے تو اس کی ضرور وضاحت کر دی جاتی۔ سہو کے سجدوں کے بعد تشہد غیر مشروع ہے۔ اور نماز میں زیادتی کی صورت میں سجدہ سہو سلام پھیرنے کے بعد مشروع ہے۔ [شرح النووي: 70/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1037]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1037 in Urdu
وهب الأسدي ← أبو هريرة الدوسي