🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
666. (433) بَابُ إِيجَابِ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ عَلَى الْمُسَلِّمِ قَبْلَ الْفَرَاغِ مِنَ الصَّلَاةِ سَاهِيًا،
نماز مکمّل ہونے سے پہلے بھول کر سلام پھیرنے والے پرسہو کے دو سجدے کرنے واجب ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1039
وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، وَقَدِ اسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ الْغِفَارِيَّ
جناب عراک بن مالک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رواہت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں اس وقت مدینہ آیا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منوّرہ میں سیدنا سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین بنایا تھا۔ (مصنف کہتے ہیں) میں نے یہ روایت اس کے علاوہ مقام پر بھی بیان کی۔ جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خیبر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضری کے متعلق کتاب الجہاد میں، میں نے روایت بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1039]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1039، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7156، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2254، 4361، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3993، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8671»


صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1039 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1039
فوائد:
➊ بھول کر کلام کرنے والے کی نماز اور ایسے شخص کی نماز جو خود کو خارج از نماز سمجھے کلام کرنے سے باطل نہیں ہوتی۔
جمہور علمائے سلف و خلف کا یہی موقف ہے اور ابن عباس، عبد اللہ بن زبیر، عروہ، عطاء، حسن بصری، شعبی، قتادہ، اوزاعی، مالک، شافعی، احمد اور جمیع محدثین اسی موقف کے قائل ہیں۔
➋ لیکن ابوحنیفہ و ائمہ احناف اور ثوری کہتے ہیں کہ دورانِ نماز بھول کر اور جہالت سے گفتگو کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے، ان کی دلیل ابن مسعود اور زید بن ارقم سے مروی روایات ہیں۔ (جن میں مطلق بیان ہے کہ نماز میں بات چیت کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے)
پھر ان کا خیال ہے کہ ذوالیدین کے قصہ والی روایت ابن مسعود اور زید بن ارقم کی حدیث کی وجہ سے منسوخ ہے، کیونکہ بقول ان کے ذوالیدین غزوہ بدر کے دن شہید ہوئے تھے اور نماز کا مذکورہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے اور حدیثِ ابو ہریرہ کے بارے یہ رائے زنی کرتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ حدیث بیان کرنا جو غزوہ بدر کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے تھے وہ تنسیخِ حدیث میں محل نہیں، کیونکہ صحابی بسا اوقات ایسا واقعہ بیان کرتا ہے جس میں وہ شریک نہ ہوا ہو اس طور کہ وہ ایسا واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یا کسی اور صحابی سے سنتا ہے۔
➌ علماء نے ان کے اعتراضات اور دعویٰ تنسیخِ روایتِ ابی ہریرہ کے کئی جوابات دیے ہیں جن میں بہترین جواب ابو عمر ابن عبد البر کا ہے۔
◈ وہ کہتے ہیں:
احناف کا یہ دعویٰ کہ حدیثِ ابی ہریرہ، حدیثِ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی وجہ سے منسوخ ہے، باطل ہے۔
کیونکہ جمیع محدثین و اہل سیر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حدیثِ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قصہ مکہ میں ہجرتِ حبشہ سے رجوع پر ہجرتِ مدینہ سے قبل پیش آیا ہے اور حدیثِ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ میں ذوالیدین کا واقعہ مدینہ میں پیش آیا تھا اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سات ہجری کو غزوہ خیبر کے سال مشرف بہ اسلام ہوئے تھے، (لہٰذا متقدم حدیث متاخر حدیث کی ناسخ کیسے ہو سکتی ہے؟)
پھر حدیثِ زید بن ارقم میں یہ وضاحت نہیں کہ یہ حدیثِ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پہلے کی ہے یا بعد کی اور تحقیق و تدقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیثِ زید، حدیثِ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پہلے کی ہے۔ [شرح النووي: 70/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1039]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1039 in Urdu