صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
669. (436) باب ذكر الجلوس فى الثالثة، والتسليم منها ساهيا فى الظهر أو العصر أو العشاء،
نماز ظہر، عصر یا عشاء کی تیسری رکعت میں بھول کے تشہد میں بیٹھنے اور سلام پھیرنے کا بیان
حدیث نمبر: Q1054
وَالدَّلِيلِ عَلَى إِغْفَالِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْمُسَلِّمَ سَاهِيًا فِي الثَّالِثَةِ إِذَا تَكَلَّمَ بَعْدَ السَّلَامِ وَهُوَ غَيْرُ ذَاكِرٍ أَنَّهُ قَدْ بَقِيَ عَلَيْهِ بَعْضُ صَلَاتِهِ أَنَّ عَلَيْهِ إِعَادَةَ الصَّلَاةِ، وَهَذَا الْقَوْلُ خِلَافُ سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 1054
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، نَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، ح وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، ثنا بِهِ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: " سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ، فَقَامَ الْخِرْبَاقُ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ، فَنَادَاهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلاةُ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ، فَصَلَّى تِلْكَ الصَّلاةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ بُنْدَارٍ، وَقَالَ الآخَرُونَ: ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ
سیدنا عمران بن حصین رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تیسری رکعت کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر حجرہ مبارک میں تشریف لے گئے، تو خرباق لمبے ہاتھوں والے شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارہ اور کہا کہ اے اللہ کے رسول، کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصّے کے ساتھ اپنی چادر کو گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حقیقت حال) دریافت کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا (کہ ایک رکعت رہ گئی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑی ہوئی نماز ادا کی پھر دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔ یہ بندار کی حدیث کے الفاظ ہیں - جبکہ دوسرے راویوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر دوسجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 574، وابن الجارود فى "المنتقى"، 271، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1054، 1060، 1062، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2654، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1211، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1235، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1018، والترمذي فى (جامعه) برقم: 395، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1215، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3888، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20142»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1054 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1054
فوائد:
➊ یہ سہو کا تیسرا واقعہ ہے، جو حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختلف ہے۔
نیز یہ حدیث دلیل ہے کہ ذوالیدین کی موجودگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ سہو ہوا تھا۔
➋ سہو کے دو سجدے سلام سے قبل اور بعد دونوں صورتیں جائز ہیں، کیونکہ گزشتہ روایات میں ظہر یا عصر میں بھولنے کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام کے بعد جو سجدے سہو کیے تھے اور اس حدیث میں وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے سجدے قبل از سلام کیے تھے، لہٰذا یہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔
➊ یہ سہو کا تیسرا واقعہ ہے، جو حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختلف ہے۔
نیز یہ حدیث دلیل ہے کہ ذوالیدین کی موجودگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ سہو ہوا تھا۔
➋ سہو کے دو سجدے سلام سے قبل اور بعد دونوں صورتیں جائز ہیں، کیونکہ گزشتہ روایات میں ظہر یا عصر میں بھولنے کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام کے بعد جو سجدے سہو کیے تھے اور اس حدیث میں وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے سجدے قبل از سلام کیے تھے، لہٰذا یہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1054]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1054 in Urdu
معاوية بن عمرو البصري ← عمران بن حصين الأزدي