صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
679. (446) باب ذكر الأخبار المنصوصة عن النبى صلى الله عليه وسلم أن الوتر ركعة
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منصوص روایات کا بیان کہ وتر ایک رکعت ہے
حدیث نمبر: 1074
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيِّ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يَفْصِلَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: إِنَّهَا الْبُتَيْرَاءُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَسُنَّةَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ تُرِيدُ؟ هَذِهِ سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ"
جناب مطلب بن عبداللہ مخزومی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہما ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ تو ایک شخص اُن کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے آپ سے وتر کے بارے میں سوال کیا۔ تو اُنہوں نے اُسے حُکم دیا کہ وتر علیحدہ پڑھا کرو۔ (ایک رکعت الگ پڑھو) اس شخص نے کہا، مجھے ڈر ہے کہ لوگ کہیں گے یہ دُم کٹی (ناقص) نماز ہے۔ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تو کیا تم اللہ اور اُسکے رسول کی سنّت (جاننا) چاہتے ہو؟ یہ اللہ اور اُسکے رسول کی سنّت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
المطلب بن عبد الله المخزومي ← عبد الله بن عمر العدوي