صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
687. (454) باب الأمر بمبادرة طلوع الفجر بالوتر
طلوع فجر سے پہلے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 1089
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، نَا مَعْمَرُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا" حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، نَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوْقِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: " أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کرنے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔“ جناب ابونضرہ عوفی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1089]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 754، 754، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1089، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1126، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1682، النسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1396، والترمذي فى (جامعه) برقم: 468، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1629، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1189، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4584، 4585، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11266»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1089 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1089
فوائد:
ان احادیث میں طلوعِ فجر سے قبل وتر ادا کرنے پر زور دیا گیا ہے، کیونکہ وتر کا وقتِ ادا نمازِ عشاء کے بعد سے طلوعِ فجر تک ہے۔
پھر طلوعِ فجر کے بعد وتر پڑھنا اگرچہ جائز ہے، لیکن یہ وقتِ قضا ہے، لہذا نمازِ وتر کو وقتِ ادا ہی میں پڑھنا مستحب ہے۔
ان احادیث میں طلوعِ فجر سے قبل وتر ادا کرنے پر زور دیا گیا ہے، کیونکہ وتر کا وقتِ ادا نمازِ عشاء کے بعد سے طلوعِ فجر تک ہے۔
پھر طلوعِ فجر کے بعد وتر پڑھنا اگرچہ جائز ہے، لیکن یہ وقتِ قضا ہے، لہذا نمازِ وتر کو وقتِ ادا ہی میں پڑھنا مستحب ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1089]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1089 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري